سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) میں نے خود پڑھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک لغو کتاب ہے۔ اس کتاب کی لغویت کے بارے میں میری وہی رائے ہے جو دوسروں کی رائے ہے۔ مگر اس کتاب کے بارے میں مسلمانوں کا ردّ عمل کیا ہونا چاہیے، اس سلسلہ میں میری رائے ان لوگوں سے مختلف ہے جو یہ نعرہ لگارہے ہیں کہ رشدی کو قتل کر کے اسے جہنم رسید کرو۔
سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں جو کچھ کہا ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں ۔ یہ تمام باتیں نہ صرف پچھلے ہزار سال سے کسی نہ کسی شکل میں کہی جاتی رہی ہیں ، بلکہ یہ خود اس زمانہ میں بھی کہی گئی تھیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں موجود تھے۔ اس وقت آپ نے ایسے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا، اس کو معلوم کر کے ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ اسی قسم کے موجودہ واقعہ میں ہم کیا طرزِ عمل اختیار کریں۔ اس معاملہ میں کسی اجتہاد یا قیاس کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کا اسوہ (نمونہ) واضح طور پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔