Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

ایک مثال

Urdu · 4 min

انڈین پینل کو ڈکی دفعہ 92سے لے کر دفعہ 106تک ذاتی دفاع کے بارے میں ہیں۔ اس کی دفعہ 96آدمی کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنے دفاع (بچاؤ) میں لڑے۔ اگر کسی شخص پر جارحیت کی جائے اور وہ اپنے دفاع میں دوسر ے شخص پر حملہ کر ے تو یہ قانونی اعتبار سے اس کے لیے جرم نہیں ہوگا

"Nothing is an offence which is done in the exercise of the right of private defence."

اب اگر کوئی شخص ان دفعات کو لے کر یہ کہنے لگے کہ ہندوستان کا قانون ہر آدمی کو کھلی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے خلاف جس کو چاہے مارنا شروع کر دے۔ تو ایسا شخص یقینا غلطی کرے گا۔ کیوں کہ وہ خصوصی حکم کو عمومی حکم بنا رہا ہے۔ وہ دفاع کے حکم سے آزادیِ مذہب کا حکم نکال رہا ہے ۔

ہندستان کا قانون مذہبی آزادی کے معاملہ میں کیا ہے، اس کوپینل کوڈ (قانون فوجداری) سے اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لیے دستور ہند کی وہ دفع دیکھنی ہو گی جو بنیادی حقوق (fundamental rights)سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ ہندوستان کے قانون نے مذہب کے معاملہ میں ہر آدمی کو پوری آزادی عطا کی ہے۔ اس کے مطابق ، نہ کسی سے اپنی پسند کا عقیدہ رکھنے کا حق چھینا جاسکتا اور نہ اس معاملہ میں اس کو مجبور کیا جا سکتا۔

مسٹر ارن شوری نے یہی غلطی قرآن کو سمجھنے میں کی۔ وہ قانونِ دفاع اور قانونِ مذہب کو ایک دوسرے میں گڈمڈ کر رہے ہیں۔انھوں نے قرآن سے ’’قتال‘‘ کی جو آیتیں نقل کی ہیں وہ سب دفاع کے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی یہ کہ جارحیت کے وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ جہاں تک اس دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ مذہب کی آزادی کے بارے میں قرآن کا نقطۂ نظر کیا ہے، اس سلسلہ میں مسٹر ارن شوری کو چاہیے کہ وہ قرآن کی آیتوں کا مطالعہ کریں جو خاص طور پر اس دوسرے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1۔ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ، ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت(شیطان) کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے ، تو اس نے مضبوط حلقہ کو پکڑلیا جو ٹوٹنے والا نہیں ، اور اللہ سننے والا، جانے والا ہے (2:256)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ پس تم لوگوں کو نصیحت کرو ، تم صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ تم ان کے اوپر داروغہ نہیں ہو(88:21-22)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں جو واضح طورپر بتاتی ہیں کہ عقیدہ یا مذہب کا معاملہ تمام تر ذاتی ضمیر کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ جس عقیدہ یا مذہب کوچاہے مانے اور جب چاہے اپنے ذاتی فیصلہ سے اس کو بدل دے۔ مذہب کے معاملہ میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں ۔ مذہب کے معاملہ میںصرف تبلیغ ہے ، نہ کہ جبر۔

خلاصہ یہ کہ اسلامی قانون جارحیت کے موقع پر ہر شخص یا قوم کو اپنے دفاع (بچاؤ) کا حق دیتا ہے۔ مگر جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے، وہ ہر ایک کے لیے مذہبی آزادی کا حق تسلیم کر تا ہے، ’’قتال‘‘ کے قرآنی حکم کا تعلق صرف پہلے معاملہ سے ہے، دوسرے معاملہ سے جنگ وقتال کا کوئی تعلق نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content