Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

زیادہ بڑی سزا

Urdu · 15 min

قدیم عرب میں شاعری کا وہی مقام تھا جو موجودہ زمانہ میں صحافت کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کسی بات کو پھیلانا ہو تو اس کو اخبار میں چھاپ کر پھیلایا جاتا ہے۔ قدیم عرب میں یہی کام اشعار کے ذریعہ لیا جاتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مکہ میں چند بڑے بڑے شاعرتھے، مثلاً کعب بن زُہیر، عبداللہ بن الزّبعریٰ اور ہبیرہ بن ابی وہب ۔ یہ لوگ اشعار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے اور آپ کو اذیت پہنچاتے تھے۔ 8ھ میں مکہ فتح ہوا تو یہ لوگ سزا کے ڈر سے مکہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ہُبیرہ کفر کی حالت میں مر گیا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 420)۔ بقیہ دونوں نے بعد کو اسلام قبول کر لیا۔ ان دونوں کی تفصیل آگے ذکر کی جارہی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب یہ لوگ مکہ چھوڑ کر بھاگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا کہ ان کے پیچھے اپنے آدمی دوڑائیں۔ یا یہ اعلان کریں کہ جو شخص ان کو قتل کرے گا اس کو اتنا انعام دیا جائے گا۔ اس کے برعکس، آپ نے ان کو ہدایت کے لیے دعا کی اور ایسے حالات پیدا کرتے رہے جس سے ان کا ضمیر جاگ اٹھے اور وہ توبہ کرکے اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں ۔ اس سلسلہ میں تفصیلی واقعات سیرت کی کتابوں میں موجود ہ ہیں۔ وہاں انہیں دیکھا جاسکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ دونوں شاعروں نے بالآخر اسلام قبول کرلیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اپنی شاعری کا رخ ہجو کے بجاے مدح کی طرف پھیر دیا۔ ان کا اسلام قبول کرنا ایک طرف خود ان کی اپنی زبان سے ان کی ماضی کی تر دید تھی، دوسری طرف یہ ہوا کہ ان کی اعلیٰ صلاحیتیں جو اس سے پہلے مخالف اسلام محاذ پر استعمال ہورہی تھیں وہ اب حمایت ِ اسلام محاذ پر استعمال ہو نے لگیں۔

1۔کعب بن زُہیر آخر وقت میں اپنے بھائی بجیر بن زہیر کی ترغیب پر مدینہ آئے تو انصار میں سے ایک شخص ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے اور اس دشمن خدا کو چھوڑ دیجيے کہ میں اس کی گردن ماردوں (يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي وَعَدُوَّ اللهِ أَضْرِبُ عُنُقَه)۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ انصاری کو خاموش کر کے بٹھادیا۔ اور کعب بن زُہیر کو قتل کرنے کے بجائے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 503)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

واقعات بتاتے ہیں کہ اس کے بعد کعب بن زہیر نے اسلام قبول کرلیا۔ کعب بن زُہیر اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین ہجو گو شعراء میں سے تھے۔ مگر قبول اسلام کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدح خواں بن گئے۔ انھوں نے آپ کی مدح میں ایک شاندار قصیدہ لکھا جو قصیدہ بانت سعاد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ قصیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت میں ایک انتہائی ممتاز قصیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ابن ہشام نے اپنی کتاب میں اس کے 59شعر نقل کیے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ513)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قصیدہ کا ایک مصرعہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ایک نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ‌إنَّ ‌الرَّسَولَ ‌لَنُورٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ512)۔

other sourceWords of another person or source

ایک شخص جو پیغمبر اسلام پر عیب لگا رہا تھا، اگر پیغمبر اسلام کی تعلیمات کی فاتحانہ طاقت اس طرح ظاہر ہو کہ وہ اس کو آپ پرایمان لانے پر مجبور کردے اور جو شخص اب تک آپ کی ہجو کر رہا تھا، وہ اپنی زبان سے یہ اعلان کرنے لگے کہ پیغمبر اسلام ہدایت کی روشنی ہیں، ان سے زندگی کے راستے روشن ہوتے ہیں، تو یہ بلاشبہ مذکورہ شخص کے قتل سے ہزار گنا زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ یہ دشمن کی زبان سے پیغمبر اسلام کی صداقت کا اقرار ہے، اور بلاشبہ اس زمین پر اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں کہ دشمن اپنی زبان سے اپنے حریف کی صداقت کا اقرار کرے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

2۔عبداللہ بن الزبعری مکہ کے ممتاز شعراء میں سے تھا۔ وہ نہایت ذہین ہونے کے ساتھ نہایت گستاخ بھی تھا۔ مکی دور کا واقعہ ہے۔ قرآن میں یہ آیت اتری کہ تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب کے سب جہنّم کا ایندھن بنیں گے(21:98)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ والوں کے سامنے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو عبداللہ بن الزبعری نے کہا کہ اے محمد، کیا جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ تو ہم لوگ فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ یہود عزیر پیغمبر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ عیسیٰ بن مریم کی عبادت کرتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بلاشبہ نہایت گستاخی کا فعل تھا۔ اپنے کلام کے ذریعہ اس نے خدا اور فرشتوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا تھا۔ اور ان کی توہین کی تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے، اور نہ ہی اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ اس آدمی نے ناقابل معافی جرم کیا ہے، اس کو قتل کرڈالو۔ اس کے بجائے آپ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا

جو کوئی یہ پسند کرے کہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کی جائے تو وہ اسی کے ساتھ ہوگا جس نے عبادت کی كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَعْبُدَ مِنْ دُونِ اللَهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ (تفسیر الطبری، جلد16، صفحہ 418) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابن الزبعری نے واضح طور پر استہزاء اور اہانت کا جرم کیا تھا۔ مگر اس کے بعد آپ نے صرف یہ کیا کہ اس کو ایک ایسا معقول اور مدلّل جواب دیا کہ اس کی بات بالکل بے وزن ہو کر رہ گئی۔ قتل صرف معترض کو ختم کرتا، مگر جوابی کلام نے معترض کابھی خاتمہ کردیا اور اسی کے ساتھ اس کے اعتراض کا بھی۔

8ھ میں مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن الزبعری بھاک کر نجران چلا گیا۔ کیونکہ اس کا ضمیر اس سے کہہ رہا تھا کہ تم نے ایسا جرم کیا ہے کہ اندیشہ ہے کہ تم قتل کردیے جاؤ ۔ تاہم اس کا فرار اس کے لیے اطمینان کا سبب نہ بن سکا۔ اب وہ ایک ایسا انسان تھا جس نے یقین کھو دیا ہو اور شک اور تردد کے دلدل میں کھڑا ہوا ہو۔

عبداللہ بن الزبعری کے سلسلہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا کہ اس کے سر پر انعام مقرر کریں اور اپنے اصحاب سے کہیں کہ تم لوگ تلوار لے کر جاؤ اور جہاں بھی اس کو پاؤ ، اسے قتل کردو۔

اس کے برعکس، مسلمانوں کی طرف سے کوشش جاری رہی کہ اس کی سوئی ہوئی فطرت کو جگایا جائے۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے شاعر حسّان بن ثابت الانصاری نے عبداللہ بن الزبعری کے بارے میں کچھ تنبیہی اشعار کہے۔ یہ اشعار ابن الزبعری تک پہنچائے گئے۔ ان میں سے ایک شعر یہ تھا کہ تم ایسے آدمی(رسول) کو نہ کھوؤ جس کے بغض نے تم کو لے جا کر دور نجران میں ڈال دیا ہے، جہاں تم اپنوں سے الگ ہوكرغیر شریفانہ زندگی گزاررہے ہو

لَا تَعْدَمَنْ رَجُلًا أَحَلَّك بُغْضُه ُ ‌نَجْرَانَ ‌فِي ‌عَيْشٍ أَحَذِّ لَئِيمِ

ابن الزبعری کو یہ شعر تیر کی طرح لگا۔ اس کے بعد وہ نجران سے چل کر مدینہ آیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد1،صفحہ391) قبولِ اسلام کے بعد اس نے بہت سے اشعار کہے۔ ان اشعار میں اس نے کھلے طور پر اپنی ماضی کی غلطی کااعتراف کیا۔ پہلے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تھی۔ اب وہ آپ کی اور آپ کے پیغام کي تعریف میںاشعار کہنے لگا۔اس کے کچھ اشعار ابن ہشام نے اپنی کتاب میں نقل کیے ہیں۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 418)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ ہجو گو انسان کے اندر بھی ایک مدح گو انسان سویا ہواہوتا ہے۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ اس مدح گو انسان کو جگائیں ، جیسا کہ دور اوّل کے اہل ایمان نے جگایا۔ ہجو گو انسان کو قتل کرنا اگر ایک انتقامی عمل ہے، تو مدح گو انسان کو جگاناایک داعیانہ عمل۔ اور اس میں شک نہیں کہ انتقامی عمل کے مقابلہ میں داعیانہ عمل کہیں زیادہ اعلیٰ اور افضل ہے۔

ایک شخص جو پیغمبر اسلام کا مذاق اڑائے یا آپ پر اعتراض کرے، اس کی یہ سزا بالکل بے فائدہ ہے کہ اس کو پکڑ کر قتل کر دیا جائے۔ اس قسم کا قتل مقتول کی بات کو رد نہیں کرتا۔ بلکہ لوگوں کا تاثر یہ ہوجاتا ہے کہ اس نے ایک طاقتور بات کہی تھی۔ چونکہ اس کی بات کا علمی رد ممکن نہ تھا، اس لیے مجنونوں نے اس کو مار کر اس کے وجود کو ختم کردیا۔

مزید یہ کہ تاریخ میں بہت سے سچّے اور بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں جن کو وقت کے ظالموں نے قتل کیا ہے۔ اس تاریخی پس منظر میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ مقتول کا رشتہ ان گزرے ہوئے لوگوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کو ہیروبنادیتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ پیش آیا ہے جو اس سے پہلے بے شمار سچے انسانوں کے ساتھ پیش آیا ۔ اس طرح مخالفین کے ہاتھوں سے قتل ہونا اس کو ’’شہیدان ِ حق ‘‘ کی فہرست میں شامل کردیتا ہے۔

یہ کوئی فرضی بات نہیں۔ سلمان رشدی کے اعلان قتل کے بعد عملاً یہی بات پیش آئی ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا(5مارچ1989) میں ایک مضمون نمایاں طور پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے— مذہبی احتساب

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

"Censored by Religion"

اس مضمون میں سلمان رشدی کو تاریخ کے ان بڑے بڑے لوگوں کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے جن کو ان کے مخالفوں نے قتل کردیا، یا قتل کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً سقراط، مسیح، گلیلیو، مارٹن لوتھر، وغیرہ۔ حتیٰ کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ، جن کو مکہ کے لوگوں نے قتل کر نے کی کوشش کی تھی۔ مشہور سائنس داں گلیلیوں کے انجام کا تذکرہ کرتے ہوئے اس مضمون میں یہ الفاظ درج کیے گئے ہیں کہ گلیلیو کو اپنی آخر عمر تک اپنے گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا تھا۔ یہی مقدر رشدی کا آج ایک نئی صورت میں ہو سکتا ہے

unverifiedAttribution could not be verified automatically

"Gallileo was confined to his villa under strict house arrest for the rest of his life, a fate the could well be Rushdie's in a different sort of way today."

واقعہ یہ ہے کہ سب و شتم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام اور پیغمبر اسلام پر ایک اعتراض ہے۔ اور جو شخص اسلام اور پیغمبر اسلام پر اعتراض کرے، اس کی زیادہ بڑی سزا یہ ہے کہ اس کی بات دلیل کے ذریعہ ردّ کر دی جائے۔ اس کوگولی مارنا اگر اس کا جسمانی قتل ہے تو اس کے اعتراض کو ردّ کرنا ا س کا ذہنی قتل ۔ اور جسمانی قتل کے مقابلہ میں ذہنی قتل بلاشبہ زیادہ سخت ہے، اور زیادہ کارگر بھی۔

تیسرا باب

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content