مسلّمہ عظمت
قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود(17:79) پر کھڑا کیا گیا ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی نبوت علمی اور تاریخی اعتبار سے مکمل طور پر تسلیم شدہ نبوت ہے۔ آپ کی حیثیت نبوت ابدی طور پر سارے عالم کے لیے مسلّم ہو چکی ہے۔ ایسے پیغمبر کے خلاف ہر پروپگنڈاجھوٹا پروپگنڈا ہے اور جھوٹا پرو پگنڈا کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
اگر کوئی شخص کہے کہ ’’ہمالیہ پہاڑ محض ایک چھوٹا سا ٹیلہ ہے ‘‘ تو دنیا میں کوئی ایک شخص نہ ہو گا جو اس قول کو سن کر ہمالیہ پہاڑ کی عظمت کے بارے میں مشتبہ ہو جائے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کے خلاف کوئی مضمون یا کتاب کسی بھی درجہ میں آپ کی شان ِ کمال میں کوئی کمی نہیں کرتی۔
یہاں وضاحت کے لیے ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔ انڈیا کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (24فروری1989) میں نئی دہلی کی ایک مسلم خاتون مسززاہدہ خان کا تفصیلی خط چھپا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ میری ایک رشتہ دار خاتون باہر رہتی ہیں ۔ وہ ہندوستان آئیںتو اپنے ساتھ سلمان رشدی کی کتاب(The Satanic Verses) بھی لے آئیں۔ ان سے لے کر میں نے اس کتاب کو پڑھا۔ مگر میں آپ کو اور اپنی کمیونٹی کے رہنما ؤں کو یہ یقین دلاتی ہوں کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں میرا عقیدہ اس کو پڑھنے سے کچھ بھی کم نہیں ہوا ، بلکہ میرے یقین میں اور اضافہ ہو گیا
"The offending book was brought to India by a visitor, and during her stay here, I read it. But I assure you and my community leaders that my faith in the Prophet Mohammad has been strengthened." (p.8).
جس پیغمبر کی عظمت اتنی مسلّم ہو، اس کے خلاف کوئی بیان دیکھ کر اگر مسلمان مشتعل ہوں تو وہ صرف اپنے چھوٹے پن کا ثبوت دیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کی عظمت و شان میں کوئی اضافہ نہیں کرتے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔