سلمان رشدی کی کتاب کا نام (شیطانی آیات) ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ہے۔ یہ جھوٹی کہانی5 نبوی میں اس وقت گھڑی گئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،پر سورہ النجم نازل ہوئی (تفصیل ملاحظہ ہو فرضی کہانی)۔ کہانی کی ابتدائی مصنفین عین اسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے جس کا ارتکاب سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات لکھ کر کیا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان کے اوپر وہ سزا نافذ نہیں کی جس کا اعلان آج ایران کے شیعہ عالم اور ہندوستان کے سنی عالم مبینہ طور پر کر رہے ہیں۔ اگر اس جرم کی سزا لازمی طور پر وہی ہے جس کی موجودہ علماء وکالت کر رہے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو مکہ میں اس کا نفاذ کرنا چاہیے تھا ۔ مگر ثابت شدہ طور پر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ علماء کے اعلان کا ماخذ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، نہ کہ قرآن اور سنت ۔
سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک توہین آمیز نام محاونڈ(Mahound)کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاونڈ کا لفظ کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ’’مَ‘‘ انگریزی لفظ مائی(My) کا مخفف ہے۔ اس طرح محاونڈ کا دوسرا مطلب(نعوذباللہ ، نقل ِ کفر کفر نباشد) ہے میرا کتا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ بے ہودہ نام سلمان رشدی کی ذاتی ایجاد نہیں۔ یہ کروسیڈ (1096-1271)کے بعد یورپ میں گھڑا گیا۔ یورپ کی مسیحی قومیں جب دوسوسالہ صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام ہو گئیں تو انھوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کو بد نام کر نے کے لیے بہت سی پست حرکتیں کیں ۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے آپ کے نام کو طرح طرح سے بگاڑا۔ ایک بگڑا ہوا نام یہ لفظ (Mahound)ہے۔ مگر پچھلے سات سو سال کے اندر اس گستاخی کی بنیاد پر کسی کو بھی قتل کی سزا نہیں دی گئی۔ اور نہ اس قسم کا فتویٰ جاری کیا گیا۔
سلمان رشدی نے جس کہانی کی بنیاد پر اپنی کتاب کا نام شیطانی آیات رکھا ہے، وہ کہانی سب سے پہلے5نبوی میں مکہ میں وضع کی گئی ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان واضعین کو قتل نہیں کرایا۔ سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام کے لیے جو گستاخانہ نام ’’ محاونڈ‘‘ استعمال کیا ہے، وہ صلیبی جنگوں کے بعد کے دور میں یورپ میں وضع کیا گیا ۔ مگر اس وقت علمائے اسلام نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جن لوگوں نے یہ گستاخانہ نام وضع کیا ہے، انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیا جائے۔
ازواج مطہرات کے خلاف جو بے ہودہ باتیں سلمان رشدی نے لکھی ہیں، اس کا مصنفِ اول مدینہ کا عبداللہ بن ابی تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے اصرار کے باوجود اس کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔ اٹلی کے دانتے (1265-1321) نے ڈیوائن کمیڈی میں، نعوذباللہ ثم نعوذباللہ، نقل کفر کفر نبا شد، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم میں دکھایا ہے۔ ترکی کی عثمانی سلطنتکا بانی سلطان عثمان غازی (1258-1326) دانتے کا ہم عصر تھا۔ مگر اس نے یہ فرمان جاری نہیں کیا کہ جو شخص دانتے کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو سنہری سکہ انعام دیا جائے گا۔ شیکسپیئر(1564-1616)نے اپنے ڈرامے میں پیغمبر اسلام کو نعوذ باللہ جھوٹا رسول بتایا ہے۔ شاہ جہاں (1592-1666) شیکسپیئر کا معاصر تھا۔ مگر ہندوستان کے علماء نے شاہ جہاں سے یہ نہیں کہا کہ فوراً ایک یا زیادہ آدمی کو ہتھیار دے کر انگلینڈ بھیجو، تاکہ وہ وہاں پہنچ کر شیکسپیئر کو قتل کردیں، وغیرہ وغیرہ۔
اس اعراض کی وجہ ماضی کے اہل ایمان یا سلاطین کی بے غیرتی نہ تھی۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس قسم کی باتوں کو ’’کتّے کی بھونک ‘‘سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کتا اگر ہاتھی پر بھونکے تو اس کا زیادہ بہتر اور کار گر جواب یہ ہے کہ ہاتھی اس کو نظر انداز کرتے ہو ئے آگے بڑھ جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔