جن لوگوں نے سلمان رشدی کی کتاب کو پڑھا ہے، وہ اس کی تصدیق کریں گے کہ رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) بلاشبہ ایک سطحی اور عامیانہ کتاب ہے۔ اس میں قاری کے لیے کوئی کشش نہیں ۔ نہ صرف یہ کتاب غیر معیاری (Sub-standard)ہے۔ بلکہ خود اس کا مصنف سلمان رشدی انگریزی کا کوئی معیاری ادیب نہیں ۔ بر طانیہ کے مشہور ادبی ناقدآبروں واف (Auberon Waugh) نے کہا ہے کہ سلمان رشدی اس قابل ہے کہ اپنی خراب انگلش کی بنا پر اس کوسزادی جائے
"Mr. Salman Rushdie deserves to be punished for bad English."
خود مغرب کے سنجیدہ تبصرہ نگاروں نے اس ناول کے بارے میں اس قسم کے الفاظ کہے ہیں بوجھل، ناقابل فہم، ناقابل مطالعہ
"Dense, impenetrable, un-readable."
مسٹر خوشونت سنگھ نے رشدی کی کتاب کے بارے میں کہا کہ ایک ناول کی حیثیت سے بھی ’’شیطانی آیات‘‘ مطالعہ کے لائق نہیں
"Even as a novel 'The Satanic Verses' is not readable."
ایک اور ہندوستانی جرنلسٹ مسٹر ارن شرما نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہو ئے کہا کہ تیسرے درجہ کی تھیم ، دوسرے درجہ کا مصنف اور اول درجہ کا کاغذ
"Third rate theme, by a second rate author, on a first rate paper."
کتاب کا یہ سطحی اور ناقص معیار مقتضی تھا کہ اس کو ایک جاہل کی جہالت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس طرح یہ کتاب اپنی موت آپ مر جاتی۔ ریاض کے عربی ہفتہ وار الدعوۃ (15رمضان 1409ھ، 20اپریل1989) میں دکتور عبدالکریم محمد الحسن بکار نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اس کتاب پر بہترین تنقید یہ تھی کہ اس سے اعراض برتا جائے ( كَانَ خَيْرنَقْد لَهُ الْإِعْرَاضُ عَنْهُ، صفحہ 47)۔ اسی طرح اردن کے صالح القاسم نے لکھا ہے کہ ماضی میں بے شمار کتابیں اسلام کے خلاف لکھی گئیں۔ مگر علمائے اسلام نے ان کو نظر انداز کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام اپنی ساری عظمت کے ساتھ زندہ رہا اور یہ کتابیں گوشۂ اہمال میں جاکر ختم ہو گئیں۔ اگر اہمال و اعراض کا یہی طریقہ سلمان رشدی کی کتاب کے ساتھ اختیار کیا جاتا تو وہ بھی فراموشی کی تاریکی میں گم ہو کر ختم ہو جاتی (صفحہ39)۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔