Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

سورج پر خاک

Urdu · 9 min

سلمان رشدی بمبئی میں 1947 میں پیدا ہوئے۔ اب وہ اپنی بر طانوی بیوی میریا نے وکنس (Marianne Wiggins)کے ساتھ لندن میں رہتے ہیں ۔ ان کی کئی انگریزی کتابیں (ناولیں) اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور کتاب آدھی رات کے بچے(Midnight's Children)ہے جو 1981میں شائع ہو ئی ہے۔ حال میں ان کی 547صفحات کی ایک کتاب ایک برطانوی پبلشر وائکنگ پریس(Viking Press)نے شائع کی ہے، جو لندن سے 26ستمبر1988کو ریلیز کی گئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے —’’ شیطانی کلام‘‘:

"The Satanic Verses"

مصنف نے کتاب کا نام(شیطانی کلام) بطور خود اس کے اساسی کردار ’’محاونڈ‘‘ (Mahound) کی نسبت سے استعمال کیا ہے جو کہ، نعوذباللہ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بگڑی ہو ئی شکل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کتاب کا یہ نام کتاب کے مفروضہ کردار کے بجائے خود کتاب کے مصنف کے اوپر زیادہ صحیح طور پر چسپا ں ہو تا ہے۔

سلمان رشدی نے اپنے ایک بیان (ٹائمس آف انڈیا 8اکتوبر1988) میں کہا ہے کہ یہ کتاب مذہب اور الہام کے بارے میں ایک سیکولر آدمی کا نقطۂ نظر بیان کر نے کی ایک کوشش ہے

other sourceWords of another person or source

"Its's an attempt to write about religion and revelation from the point of view of a secular person."

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہو گی کہ یہ کہا جائے کہ وہ ایک سیٹانک پرسن(Satanic person) کے نقطۂ نظر بیان کر نے کی کوشش ہے۔ کیونکہ سیکولرزم، یا سیکولر انسان کا یہ مطلب کسی بھی سنجیدہ صاحب علم نے کبھی نہیں بتایا جس کا نمونہ سلمان رشدی نے اپنی مذکورہ کتاب میں پیش کیا ہے۔

یہ کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایک انتہائی بیہودہ اور فحش قسم کا ناول ہے۔ جیساکہ خود اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس میں حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وغیرہ کے نام تو بالکل اصل حالت میں درج کیے گئے ہیں ، البتہ پیغمبر کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے محاونڈ (Mahound)لکھا گیا ہے۔ یورپ کے مسیحی علماء اور مستشرقین نے قدیم زمانہ میں اپنے جذبۂ عناد کی تسکین کے لیے آپ کے نام کو طرح طرح سے بگاڑا تھا (ملاحظہ ہو زیرِ نظر کتاب کا پہلا باب، اسلام مغربی لٹریچر میں)۔ انھیں میں سے ایک بگڑا ہوا نام وہ ہے جس کو سلمان رشدی نے انتہائی مجرمانہ طور پر اپنی کتاب میں استعمال کیا ہے۔

حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نسل انسانی کی بزرگ ترین شخصیت ہیں۔ آپ کی ذات گرامی بلاشبہ پوری انسانیت کے لیے فخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی عظمت اور آپ کا تقدس اتنا زیادہ مسلّم ہے کہ دنیا کے تمام سنجیدہ لوگوں نے متفقہ طور پر اس کا اقرار کیا ہے۔

آپ کا ایک خصوصی امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابدی طور پر فتح و غلبہ کی نسبت عطا فرمائی ہے۔ چنانچہ قدیم عرب میں ہر قسم کی شدید ترین مخالفت کے باوجود آپ تمام قبائل کے اوپر مکمل طور پر غالب رہے۔ آپ کے زمانہ کی دو طاقت ور ترین سلطنتیں (روم اور ایران) آپ سے ٹکرائیں مگر وہ خود پاش پاش ہو کر رہ گئیں۔ آپ کے ظہور کے بعد یہودی اور عیسائی ساری دنیا میں آپ کے دشمن ہو گئے، مگر آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔

صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کی مسیحی اقوام نے متحدہ طور پریہ کو شش کی کہ آپ کی تصویر کو بگاڑیں اور آپ کی تاریخ کو بالکل مسخ کر ڈالیں۔ مگر ہزار برس تک اپنی ساری طاقت خرچ کر نے کے باوجود ان کی کوششیں صد فی صد ناکام ہو گئیں۔ یہاں تک کہ سائنس کے زیر اثر خود علم انسانی میں وہ انقلاب آیا جس نے آپ کے معاندین کے تيار کردہ لٹریچر کو غیر حقیقی قرار دے کر رد کر دیا۔ خود مسیحی طبقہ کی بعد کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہو ئے جنھوں نے اپنی ابتدائی نسلوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ان میں ٹامس کارلائل (1795-1881ء)هےجس نے 1840ء میں ایک لکچر دیا تھاجس کا عنوان یہ تھا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

"The Hero As Prophet Mahomet: Islam"

اس لکچر میںکارلائل نے یہ ثابت کیا کہ پیغمبر محمد ایک ہیرو پیغمبر (A Hero-Prophet)ہیں ۔کارلائل کا یہ لکچر اس کی مشہور کتاب میں شامل ہے، جس كانام یہ ہے

On Heroes, Hero-Worship, and the Heroic in History, 1905, New York, pp. 41-75.

other sourceWords of another person or source

ان کے درمیان سے ايك اور شخص مائیکل ہارٹ (پیدائش1932)اٹھا جس نے ایک کتاب اس عنوان سے لکھی، دی ہنڈریڈ(The 100)۔ اپنی کتاب میں اس نے یہ اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے سب سے کامیاب انسان تھے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں—

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

"He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels." (The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History, New York, 1993, p. 3)

other sourceWords of another person or source

جو ہستی اتنی عظیم ہو اور جس کی بڑائی ایسا مسلّمہ واقعہ بن چکی ہو، اس کے خلاف کتاب لکھنا یا اس کی شان میں برے کلمات اپنی زبان سے نکالنا یقیناً ایسا ہی ہے جیسا سورج کے اوپر خاک ڈالنا۔ جو شخص سورج کے اوپر خاک ڈالنے کی کوشش کرے وہ خود اپنے منہ میں خاک ڈال رہا ہے، وہ خود اپنے آپ کو باطل ثابت کر رہا ہے۔

کتا اگر ہاتھی کے اوپر بھونکے تو ہاتھی کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ کتے کی بھونک کی تردید کرے۔ ہاتھی اپنے باعظمت وجود کے ساتھ اپنے آپ کو کتے کی بھونک کی تردید ہے ۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کسی کے قلم کی سیاہی اس کو داغدار کرسکے ۔ ساری تاریخ ، تمام انسانی علوم ، حتی کہ پوری کائنات ایسی ہر کوشش کی تردید ہے۔ جس ہستی کے ظہور نے خود انسانی تاریخ کو بدل ڈالاہو، کون ہے جو اس کی تصویر کو بدلے ، کون ہے جو اس کی تاریخ کو مٹا سکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content