سلمان رشدی کے بارے میں قتل کی وکالت کرنے والے جو مضامین شائع ہوئے، ان میں عام طور پر یہ الفاظ تھے کہ رشدی نے دنیا کے ایک بلین مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ یہ الفاظ بلاشبہ خلاف واقعہ ہیں ۔ اور اس کا ثبو ت یہ ہے کہ اس سلسلے میں جتنے خطوط اور مضامین چھپے ہیں وہ 99فی صد سے زیادہ ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کے ’’اردو خواں ‘‘ مسلمان ہیں جنھوں نے اس معاملہ میں پُر شور حصہ لیا۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں جو مظاہرے ہو ئے ہیں وہ بھی عملاً وہاں بسنے والے ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ ان ملکوں میں عرب ممالک یا دوسرے ملکوں کے جو مسلمان آباد ہیں انھوں نے اس میں عملاًاتنا کم حصہ لیا ہے کہ وہ تقریباً نہیں کے برابر ہے۔
مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا(3اپریل1989) میں آخری صفحہ کے نیچے ایک خبر ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ بر طانیہ میں شیطانی آیات کے خلاف شورش تیز تر
"Anti Verses Stir Intensified in the U.K."
خبر میں بتایا گیا ہے کہ بر طانیہ کے مسلمانوں نے طے کیا ہے کہ وہ شیطانی آیات کے خلاف ایجی ٹیشن کو تیز تر کر دیں ۔ حتیٰ کہ اس معاملہ میں وہ بر طانی قانون کو توڑ کر بھی اپنی مہم کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد خبر میں بتا یا گیا ہے کہ ڈاکٹر کلیم صدیقی نے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے تحت ہو نے والی ایک کانفرنس میں اس بات کا اعلا ن کیا۔ ڈاکٹر کلیم صدیقی کون ہیں۔ یہ ہندستان کے ایک’’اردوداں‘‘ مسلمان ہیں جو ہندستان سے جاکرلندن میں آباد ہو گئے ہیں۔ (18اپریل 1996کو ان کا انتقال ہو گیا) ۔
28مئی 1989کو رشدی کی کتاب کے خلاف لندن میں مظاہرہ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً 20ہزار مسلمان اس میں شریک تھے۔ ان لوگوں نے تشدد اورتوڑ پھوڑ بھی کیا۔ یہ مظاہرہ بھی بر صغیر ہند کے ان لوگوں کی طر ف سے تھا جو انگلینڈ میںمقیم ہیں ۔ اس کے لیڈر معین الدین چودھری تھے جو اصلاً بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں (قومی آواز 29مئی1989)۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو بیرونی ملکوں میں مسلمانانِ عالم کے نام پر اس احتجاجی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ دراصل ہندوستان اور پاکستان کے کچھ مسلمان ہیں ، نہ کہ ساری دنیا کے مسلمان۔
اس سلسلہ میں جوخبریں آتی رہی ہیں ان میں اب تک عرب یا ترکی یا ملیشیا یا انڈونیشیا جیسے ملک کے لوگوں کا نام نہیں آیا ہے جو اس قسم کے مظاہرے اور ایجی ٹیشن میں سرگرم حصہ لے رہے ہوں۔ حتیٰ کہ خود ہندوستان ، پاکستان میںبھی صرف وہ لوگ اس مہم میں آگے ہیں جن کو ہم نے ’’اردو داں ‘‘ مسلمان کہا ہے۔ خود اس علاقہ کے غیر اردو داں(مثلاً جنوبی ہند کے مسلمان) اب تک اس مہم میں کسی قابل لحاظ حیثیت میں شریک نہیں ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کر رہا ہے کہ یہ مہم سارے عالم اسلام کی مہم نہیں ہے۔ بلکہ عالم اسلام کی ایک محدود اقلیت کی مہم ہے جس نے غیر واقعی طور پر اپنے آپ کو اسلام کا واحد ٹھیکیدار سمجھ لیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔