16-14مارچ 1989کو ریاض میں تنظیم اسلامی کانفرنس(آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کا اجتماع ہوا۔ اس میں 46 مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک ہو ئے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے پر افغانستان کے مسئلہ کے بعد دوسرا سب سے زیادہ حسّاس مسئلہ سلمان رشدی کے معاملہ پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ سعودی حکمراں شاہ فہد کی تقریر سے اس کا افتتاح ہوا۔ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر چند روزہ بحث کے بعد 16مارچ 1989کو مسلم ممالک کے نمائندوں نے اپنا متفقہ فیصلہ دے دیا۔
اس فیصلہ کے مطابق،46ملکوں کی تنظیم اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے واحد اختلاف کے ساتھ ’’شیطانی آیات‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی کے موت کے فتویٰ کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ سفارت کاروں نے ایرانی فتویٰ کو مسترد کیے جانے کو انتہائی اقدام قرار دیا۔ کانفرس نے سلمان رشدی کے ناول کو اسلام کی اہانت کرنے والی کتاب قرار دیتے ہو ئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مختلف مذاہب کے پیشواؤں کی دل آزادی نہ کریں ۔ سعودی عرب کے شاہ فہد نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہو ئے کہا کہ مسلمانوں کو عفوو درگذر سے کام لینا چاہیے۔ اور غلط کاروں کو توبہ کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ انھوں نے اس طرح کے معاملات میں اعتدال پسندی کی تلقین کی (قومی آواز17مارچ1989)۔
اس فیصلہ سے یہ ظاہر ہوگیا کہ رشدی کے قتل کے فیصلہ میں ایران کی نام نہاد اسلامی حکومت تنہا ہے۔ بقیہ تمام مسلم ممالک، سرکاری سطح پر یہ رائے رکھتے ہیں کہ رشدی نے اگرچہ انتہائی قابل ِ اعتراض کتاب لکھی ہے، اس کے باوجود یہ صحیح نہیں کہ مذہبی فتویٰ جاری کر کے تمام دنیا کے مسلمانوں کو اکسایا جائے کہ جہاں پائیں قتل کر دیں ۔ سلمان رشدی کاجواب ہمیں پر امن ذرائع سے دینا چاہیے، نہ کہ بم اور گو لی سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔