ٹائم میگزین (27فروری1989) کی کور اسٹوری آیت اللہ خمینی کے بارے میں ہے۔ اس کے صفحہ اول پر یہ الفاظ لکھے ہو ئے ہیں کہ آیت اللہ ایک مصنف کی مذمت کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ کتاب ’’ شیطانی آیات‘‘ اسلام کے خلاف ہے، خمینی اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے
The Ayatullah condemns an auther: Saying the book “The Satanic Verses” is aganist Islam. Khomeini calls for the death of Salman Rushdie.
ٹائم نے اپنی رپورٹ میں جو باتیں درج کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مغرب کے سیاسی لیڈروں نے اس بات پر سخت غصہ کا اظہار کیا ہے کہ ایک ملک دوسرے ملک کے شہری کے لیے قتل کی سزا کا اعلان کرے۔ اس واقعہ کے بعد مغربی حلقوں میں یہ سوال اٹھ گیا ہے کہ آزاد معاشرے اپنے کو اور اپنے شہریوں کو تخویف کی ایسی شدید اور سیمابی صورت سے کس طرح بچا سکتے ہیں
It raised concerns about how free societies can effectively protect themselves and their citizens against such intense and unpredictable intimidation (p. 6).
ٹائم نے اہل مغرب کے جس تاثر کا ذکر کیا ہے اس کی زد بالواسطہ اعتبار سے اسلام پر پڑتی ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جو لوگ اپنے یہاں آزادانہ آمدورفت کا ماحول قائم کیے ہو ئے ہیں ، وہ اس بات کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ اسلام کا ان کے معاشرے میں آنا، ان کی زندگیوں کے لیے زبردست خطرہ ہے۔ کیونکہ مہذب سماج میں غیر مہذب انسانوں کے داخلہ کے ہم معنی ہے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ وہ اسلام جوامن کا دین تھا اور جس کے پیغمبر کو رحمت ِ عالم کہا گیا تھا، اس کی تصویر ایسی بنادی جائے کہ اس کی قربت سے لوگوں کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔