Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

دوسرا باب رشدی کی کہانی

Urdu · 6 min

رشدی کی کہانی

17 فروری1989کی صبح جو اخبارات آئے ، ان سب کے صفحہ اول پر یہ سنسنی خیز خبر تھی ایران کے شیعہ رہنماآیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ شیطانی آیت (The Satanic Verses) کے مصنف سلمان رشدی (42سال) کو قتل کردیں۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے قتل کرنے والے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا۔ ٹائمس آف انڈیا(17فروری1989) کے مطابق قتل کرنے والا اگر ایرانی ہے تو اس کو26 لاكھ ڈالر ( $2.6 million)دیے جائیں گے اور اگر قتل کرنے والا غیرایرانی تو اس کو 10 لاكھ ڈالر( $1 million)ملے گا۔ ایران کے خود ساختہ لغت میں اسلام بھی ایرانی اور غیرایرانی ہو گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19 فروری کے اخبارات یہ خبر لائے کہ سلمان رشدی نے لندن میں ایک بیان جاری کر کے اس کے بارے میں معافی مانگ لی ہے۔ اس نے یہ کہا ہے کہ

"Living in world of many faiths, the experience had served to remind us that we must all be conscious of the sensibilities of others."

اگلے دن 20 فروری 1989کو دوبارہ اخبارات نے بتایا کہ ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی نے اعلان کیا ہے کہ سلمان رشدی کو معافی مانگنے کے باوجود بخشا نہیں جائے گا۔ٹائمس آف انڈیا (20فروری) کے مطابق انھوں نے کہا

other sourceWords of another person or source

"Even if Salman Rushdie repents and becomes the most pious man, it is incombent on every Muslim to employ everything he's got, his life and wealth , to send him to hell."

opposing viewA view stated in order to be argued against

قومی آواز (23فروری1989) کی ایک خبر میں بتایا گیا کہ مزید خبروں کے مطابق سنّی علماء بھی اس ایرانی جہاد میں مکمل طور پر شریک ہو گئے ہیں۔ اردو روزنامہ قومی آواز (20فروری 1989) کے مطابق ، دارالعلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ کے ناظم مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنے ایک بیان میں ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے فرمان کو حق بجانب قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصنف نے مذہب اسلام کی سخت تو ہین کی ہے جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امام خمینی کے فرمان پر مسلمان اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ مولانا ندوی نے کہا کہ اسلام میں پیغمبر اسلام کی تو ہین کے مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ مسلم علماء اور مفتی اس معاملے میں متفق ہیں(صفحہ 1)۔

other sourceWords of another person or source

اس کے بعد اخباری بیانوں، خطوط اور مضامین کا لمبا سلسلہ چل پڑا ۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان بڑھ چڑھ کر پُر جوش الفاظ کا مظاہرہ کررہا تھا اور سلمان رشدی کے قتل سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھا۔ تاہم اس لفظی جہاد میں زیادہ تر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان شریک تھے۔ لندن کی سڑکوں پر جو مظاہرے ہوئے اس کے پیچھے بھی انھیں ملکوں کے مسلمان شریک تھے۔ بقیہ مسلم دنیا نے اس نام نہاد جہاد میںکوئی قابل ذکر حصہ نہیں لیا۔ حتٰی کہ آیت اللہ خمینی کو چھوڑ کر، خود ایرانی قوم بھی بحیثیت مجموعی اس مہم میں شریک نہ ہو سکی۔

قومی آواز(23فروری1989) کی ایک خبر میں بتایا گیا کہ مکہ میں علمائےاسلام کی ایک میٹنگ کے بعد رابطۂ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے ایک بیان میں کہا کہ سلمان رشدی مرتد ہے، اور اسلام میں اس جرم کی سزا موت ہے۔ انھوں نے یہ اپیل کی کہ سلمان رشدی کی عدم موجودگی میں کسی اسلامی ملک میں مقدمہ چلایا جائے۔ ڈاکٹر نصیف نے کہا کہ رشدی نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، اس کو تحریر کی آزادی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک زبانی مجرمانہ حملہ ہے۔ سلمان رشدی مرتد ہے اور شریعت کے مطابق ارتداد کے جرم کی سزا موت ہے۔ تاہم رابطہ نے اس رسمی بیان کے سوا اس مہم میں اور قابل ذکر سر گرمی نہیں دکھائی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

7مارچ1989کو حکومت ایران نے برطانیہ سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے اور اپنے تمام سفارتی عملہ کو لندن سے واپس بلالیا۔ (ٹائمس آف انڈیا 8 مارچ 1989)

other sourceWords of another person or source
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content