اس طرح کے مواقع پر عام طور پر یہ بات کہی جاتی کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔ مگر مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کسی قوم کے جذبات کا مجروح ہونا شریعت میں ہر گز معتبر نہیں۔ یہ شریعت کے حدود و تعزیرات کی کوئی دفعہ نہیں۔اس قسم کی باتوں کا حوالہ دے کر کسی کو مارنا یا کسی کی جائداد کو جلانا دہرا سرکشی ہے۔ یہ اسلام کی حدود و تعزیرات کی فہرست میں ایک نئے حکم کا اضافہ کرنا ہے جس کا کسی بھی شخص کو کوئی اختیار نہیں۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اس قسم کی ناخوشگوار باتوں پر صبر کرتے ہوئے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچائیں۔ اس کے سوا وہ جو کچھ بھی کریں گے وہ صرف ان کے اپنے جرم میں اضافہ کرنے والاثابت ہو گا، نہ کہ دوسروں کے حق میں اپنی اسلامی ذمہ داریوں کو ادا کرنا۔
دوسرا باب
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.