Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

جہاد یا سر کشی

Urdu · 10 min

بنگلورکے انگریزی اخبار دکن ہر الڈ(7ستمبر1986)نے ایک کہانی چھاپی جس میں پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخی کا پہلو پایا جاتا تھا۔ اس پر مقامی مسلمان بگڑ گئے۔ انھوں نے اخبار کے گودام جلا ڈالا جس میں ایک کرور روپیہ کا کاغذ رکھا ہوا تھا۔پاکستان کے انگریزی اخبار فرنٹیر پوسٹ (9 جنوری1987)میں کسی مغربی پرچہ سے ایک مضمون نقل کیا گیا۔ اس کے ساتھ آدم اور ہوا کی ایک تصویر تھی وہ بھی فرنیٹر میل میں چھپ گئی۔ اس کے بعد ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں بپھرے ہوئے مسلمانوں نے اخبار کی وسیع عمارت کو گھیرلیا اور اس کو سازوسامان سمیت جلا کر خاکستر کر دیا۔

اس قسم کے واقعات ایک یا دوسری شکل میں ہر ملک میں ہو رہے ہیں جہاں مسلمانوں کو عمل کی آزادی حاصل ہے۔مسلمان اپنی ملی ہوئی آزادی کو اسی قسم کی تخریب کاری میں استعمال کر رہے ہیں اور اس کا نام انھوں نے اسلامی جہاد رکھا ہے۔

اس قسم کا ہر عمل بلاشبہ غیر اسلامی عمل ہے۔ یہ جہاد نہیں بلکہ سرکشی ہے اور سرکشی اللہ تعالیٰ کے یہاں بد ترین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس معاملہ کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَاضْرِبُوهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ  فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ ،ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِأَصْحَابِهِ بَكِّتُوهُ فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ مَا اتَّقَيْتَ اللهَ، مَا خَشِيتَ اللهَ، وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ ، وَلَكِنْ قُولُوا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4477-4478)۔یعنی، حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ وہ شراب پیے ہو ئے تھا۔ آپ نے فرمایا اس کو مارو۔ پس ہم میں سے کوئی شخص اس کو ہاتھ سے مارنے لگا اور کوئی شخص کپڑے سے اور کوئی شخص جوتے سے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اس کو عار دلاؤ۔ پس لوگ کہنے لگے کیا تم کو ڈر نہیں، کیا تم کو اللہ کا خوف نہیں، کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم نہیں آئی۔ پھر حاضرین میں سے بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ تمہیں رسوا کرے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایاکہ اس طرح مت کہو۔ اس کے مقابلہ میں شیطان کے مدد گار نہ بنو۔ بلکہ یہ کہو کہ اے اللہ اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس حدیث سے سے چند باتیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ صحابہ کرام نے جب ایک شاربِ خمر کو دیکھا تو وہ خود اس کو مارنے نہیں لگے۔ بلکہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے جو اس وقت مدینہ میں صاحبِ اَمر (ruler)کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر ایک ایسا فعل کرے جو ثابت شدہ شرعی جرم کی حیثیت رکھتا ہو تب بھی عوام کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بطور خود اس پر مقررہ سزا کا نفاذ شروع کردیں۔ سزا کے نفاذ کا حق صرف صاحب ِ امر کو ہے ۔ اور اسی طرف معاملہ کو لوٹا یا جانا چاہیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری بات یہ کہ ثابت شدہ مجرم کو سزادینے کا کام بھی خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ہو نا چاہیے۔ اس کو صرف’’سزا‘‘ دی جائے، اس کو ’’ذلیل‘‘ نہ کیا جائے۔ کوئی بھی قولی یا عملی روش جو ذلیل کرنے کے ہم معنی ہو وہ مجرم کے اندرمنفی نفسیات پیدا کرے گی۔ مجرم کو سزا دینے کے ساتھ ذلیل و رسوا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ وہ دین اور اہلِ دین سے متنفر ہو جائے۔ اس طرح کی روش کے نتیجہ میں اس کے اندر ضد اور نفرت کا جذبہ بھڑک اٹھے گا۔ اس سے پہلے اگر وہ حق سے ایک قدم دورتھا تو اب وہ اس سے سو قدم دور ہوجائے گا۔ شیطان اس کے اندر مخالفانہ جذبات بھڑکا کر اس کو اپنا شکار بنالے گا۔

اس سلسلہ میں ایک اور بات ہے جس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ وہ یہ کہ کسی جرم کی شرعی سزا وہی ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہو۔ اس کے سوا کوئی اور سزا دینا یقینی طور پر فعلِ حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً شاربِ خمر کے لیے اگر شریعت میں یہ سزا مقرر کی گئی ہے کہ اس آدمی کو مارا جائے جس نے شراب پی ہے تو کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ شاربِ خمر کے بھائی بہنوں کو مارنے لگے، یا وہ شاربِ خمر کا گھر جلانے لگے، یا وہ اس کے کارخانے کو لوٹنا شروع کر دے۔

سزا نافذ کرنے والے ادارہ کا کام صرف یہ ہے کہ جب ایسا کوئی کیس سامنے آئے تووہ تحقیق کرے۔ جب تحقیق اور شہادت سے ثابت ہو جائے کہ متعلقہ شخص فی الواقع مجرم ہے تو ایسے جرم کے لیے شریعت کی مقررہ سزا ہے اس کو اس شخص پر نافذ کرے۔ کوئی دوسری سزا نافذ کرنا شریعت کی تعمیل نہیں بلکہ شریعت سے بغاوت ہے۔ ایسا شخص خود سب سے بڑا مجرم ہے، اس کو حق نہیں کہ کسی دوسرے شخص کو مجرم قرار دے کر اس کے اوپر اپنی خود ساختہ سزا کا نفاذ کر نے لگے۔

زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب نے یہ دستور بنا رکھا تھا کہ وہ اونچے خاندان کے مجرم اور نیچے خاندان کے مجرم کے درمیان سزا میں فرق کرتے تھے۔ اس پر قرآن میں قصاص کی آیت (2:178) اُتاری گئی ۔ اس میں کہا گیا کہ اے ایمان والو، تم پر مقتولین کے معاملے میں برابری اور مساوات کو فرض کیا گیا ہے۔ سزائے قتل کے معاملہ میں جو لوگ قصاص (برابری) کے شرعی اصول کو اختیار نہ کریں ۔ یا مثلاً معافی اور دیت قبول کرنے کے بعد مزید یہ کریں کہ وہ قاتل کو قتل کر ڈالیں تو یہ اعتداء (زیادتی) ہے۔اور اس قسم کا اعتداء کرنے والوں کے لیے خدا کے یہاں دردناک عذاب ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں ارشادہوا ہے کہ جو شخص قتل کیا جائے تو اس کے وارثوں کے لیے تین میں سے ایک چیز ہے۔ قصاص، یا معاف کر دینا، یا دیت لینا۔ اس کے بعد اگر و ہ کوئی چوتھی چیز چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑلو۔ جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا وَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ نَارُ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4496)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حکمِ شریعت کے مطابق جرم اور سزا میں برابری ہونا ضروری ہے۔ کسی مجرم کو حدِ شرعی سے زیادہ سزا دینا یا مقررہ سزا کے سوا کوئی اور سزا دینا سراسر حرام ہے۔ ایک شخص سے کوئی شرعی جرم سرزد ہو تو خود مجرم پر شرعی سزا کا نفاذ کیا جائے گا۔ اس کے بجائے اگر اس کے ہم قوموں کو مارا جانا لگے یا مجرم کی جائیداد کو تباہ کیا جائے تو یہ سراسر حرام ہے جو لوگ ایسا کریں یا جو لوگ ایسا کرنے والوں کی حمایت کریں حتی کہ جو لوگ ایسے فعل کو دیکھ کر خاموش رہیں وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں مبتلا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاںاس کی سخت ترین باز پُرس کی جائے۔

ملک کا اقتدار اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جن سے یہ امید نہ ہو کہ وہ مجرم کے اوپر شرعی سزا کا نفاذ کریں گے تب بھی مسلمانوں کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں ۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے لیے نصیحت اور صبر ہے، نہ کہ سزا کا نفاذ۔ یہ اصول مکّی دور کے عمل سے ثابت ہے۔ اس وقت مکہ کے لوگ کھلے طور پر شراب پیتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان پر حد جاری کرنے کی کوشش نہیں فرمائی ۔ حد کا نفاذ اقتدار ملنے کے بعد کیا گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content