Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

یہ اسلام نہیں

Urdu · 6 min

بنگلور کے انگریزی اخبار دکن ہر الڈ نے اپنے سنڈے اڈیشن 7ستمبر1986 میں پی کے این نمبودری کے نام سے ایک کہانی چھاپی۔ اس کا عنوان (نقل کفر کفر نبا شد) یہ تھا

"Mohammad, the Idiot"

یہ عنوان بلاشبہ لغو ہے۔ مگر اس کے جواب میں مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ بھی یکساں طور پر لغو ہے۔ وہ اس مضمون کو دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے اخبار مذکور کے دفتر پر دھا وا بول دیا اور اس کے گودام کو جلا ڈالا جس میں ایک کرورروپیہ کا کاغذ رکھا ہوا تھا۔ ان مسلمانوں نے اپنے اس عمل کو اسلامی جہاد کا نام دیا ہے۔ مگر یہ غلطی پر سر کشی کا اضافہ ہے۔ اس قسم کا ہر فعل مسلمانوں کی قومی اُدھم بازی ہے ، نہ کہ وہ مقدس عمل جس کو قرآن و حدیث میں جہاد فی سبیل اللہ کہا گیا ہے۔

مذکورہ اخبار نے جو بے ہودہ گوئی کی وہ اسلامی تاریخ میں کوئی نئی چیز نہیں۔ موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو امتحان کی آزادی عطا کی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے واقعات عین اس وقت سے پیش آرہے ہیں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس دنیا میں موجود تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ آپ نے جب عربوں کے سامنے پیغمبرانہ دعوت پیش کی تو انہوں نے آپ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا۔ انھوں نے آپ کو عملی طور پر ستانے کے علاوہ آپ پر طرح طرح کے برے القاب چسپاں کیے۔ ان میں سے چند القاب قرآن کے مطابق ، نعوذ باللہ ، یہ تھے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

متقوّل (52:33)  بات بنانے والا

مجنون(81:22)  دیوانہ

ساحر (10:2)  جادو گر

کذّاب(38:4)  بہت جھوٹ بولنے والا

مذکورہ مسلمان اگر واقعۃً ’’اسلامی جہاد‘‘ کرنا چاہتے تھے تو ان کا فرض تھا کہ سب سے پہلے قرآن اور حدیث اور سیرت کو دیکھ کر معلوم کرتے کہ اس طرح کی صورتِ حال جب دورِ اول میں پیش آئی تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم نے اس معاملہ میں کس قسم کا ردعمل پیش کیا۔ اور پھر وہی کرتے جو رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ سے ثابت ہورہا ہو۔ سیرت ِ رسول اور اسوۂ صحابہ سے بے نیاز ہو کرموجودہ قسم کا اشتعال انگیز کارروائی اپنے نفس کا اتباع ہے، نہ کہ خدا اور رسول کا اتباع۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جب ہم اس اعتبار سے دور اول کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموںکے خلاف کبھی بھی اس طرح کی کاروائی نہیں کی گئی جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کی یا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف صحابہ نے نہ جلوس نکالا، نہ ان کے گھروں اور جائدادوں کو جلایا۔ اور نہ ان کے خلاف نعرہ بازی کاہنگامہ کھڑا کیا۔ اس کے بجائے جو کچھ کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعا ئیں کی گئیں۔ اور دلیل کے ذریعے ان کی بات کی تردید کی گئی ۔ اس سے آگے ان کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔

رسول اور اصحاب رسول کا یہ نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے حق میں اصلاح اور ہدایت کی دعا کریں۔ ان سے ملاقات کر کے پروقار طریقہ سے ان کی غلط فہمی کو دور کریں ۔ سنجیدہ اور علمی انداز میں وضاحتی مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرائیں۔ یہی واحد کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس کے سوا مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ خدا کےغضب کو دعوت دینے والا ہے، نہ کہ خدا کی رحمت کا مستحق بنانے والا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا کے لیےرحمت بنا کر بھیجا ہے، نہ کہ دنیا کو جلانے اور پھونکنے والا بنا کر۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اس مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے ان سے ایک عظیم نعمت کو چھین لیا۔ اور وہ داعیانہ کلام کی صلاحیت ہے۔ داعی اپنی قوم کا ناصح ہو تا ہے۔ داعیانہ کلام مخاطب کے لیے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ سے نکلتا ہے۔ مگر جب مسلمانوں کا حال یہ ہوکہ وہ بات بات پر بھڑک اٹھیں تو ان کا دل دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور بیزاری کے جذبہ سے بھر جائے گا۔ ان کے اندر وہ معتدل نفسیات باقی ہی نہ رہے گی جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کسی کے سامنے سنجید ہ اور مدلل انداز میں خدا کے رسول کا پیغام پیش کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جشنِ رسالت کی دھوم کے باوجود تبلیغ رسالت کا کام ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آپ کی خدائی پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہنچائے۔ مگر پیغام رسالت کودوسری قوموں تک پہنچانے کے لیے دوسری قوموں کی سچی خیر خواہی درکار ہے۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے منفی مزاج کے نتیجہ میں پہلے ہی اس کو کھو چکے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content