مقصدِ تخلیق
اس فکری ڈی ریلمنٹ کا سبب کیا ہے۔ اس کو اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے ایک واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کے ایک گورنر عدی بن ارطاة نےان کو لکھا— لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کررہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اِس کے نتیجے میں حکومت کے مالیہ میں کمی ہوجائے گی۔ اِس کا جواب خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے اِن الفاظ میں دیا واللهِ لَوَدِدْتُ أنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَسْلَمُوا حتّى نَكُونَ أنا وَأنتَ حَرَّاثَيْنِ نَأكُلُ مِن كَسْبِ أَيْدِينَا‘‘ (سیرة عمر بن عبد العزیز لابن الجوزی، صفحہ 124)۔ یعنی خدا کی قسم، مجھے یہ پسند ہے کہ سارے لوگ اسلام قبول کرلیں، یہاں تک کہ میں اور تم دونوں کاشت کار بن جائیں اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق حاصل کریں۔
مذکورہ واقعه کا ایک پہلو یہ تھا کہ کثرتِ اسلام سے حکومت کي مالی آمدنی کم ہورہی تھی۔ اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کا اصل مشن یہی تھا کہ لوگوں کو سچائی ملے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے دونوں پہلوؤں کو الگ کرکے دیکھا، اس لیے وہ ایک واضح اور درست رائے تک پہنچ گئے۔
اِس کے برعکس، ان کے گورنر کا حال یہ تھا کہ اُس کے کلام میں مادّي مفادکی اہمیت موجود تھی، لیکن اُس کے کلام میں یہ اہمیت مفقود تھی کہ لوگوں کو سچائی ملے۔خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلام میں کس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہے۔ وہ یہی ہے کہ اپنے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کی جائے اور دوسروں کو اللہ کا پیغام پہنچایا جائے۔
بعد کے دور میں جو فکری زوال پیدا ہوا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ فقہی تعبیرات کے درمیان عملاًیہ حقیقت گم ہوگئی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد(purpose of life)کیا ہے۔ اِس کو ختم کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان کے مقصد تخلیق کو فوکس کیا جائے۔ مقصدِ تخلیق کے تعین کے بعد هي يه ممكن هے کہ مسلم ملّت کا ذہنی فوکس بدلے اور وه تمام انسانوں کو دوست و دشمن اور شاتمو غیرشاتم کے اعتبارسے دیکھنے کے بجائے خدا کے تخلیقی منصوبہ کے اعتبار سے ديكھنے لگيں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔