Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

قرانی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن

Urdu · 5 min

قرآنی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن

یہیں سے مسلمانوںمیں فکری ڈی ریلمنٹ (derailment) شروع ہوا۔اگر آپ فقہی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ فقہ میں بظاہر اسلام کی مختلف تعلیمات زیر بحث آتی ہیں، لیکن عملاً تمام فقہی بحثیں اِن تعلیمات کے فارم پر ہوتی ہیں۔ فقہ کا یہ پیٹرن اصولی بنیادپر نہیں بنا، بلکہ حالات کے زیر اثر (situational factor) بنا ہے۔آپ قرآن کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سارا زور اسلام کی اسپرٹ پر دیا گیا ہے، لیکن فقہ میں ایک انتقالِ تاكيد (shift of emphasis)کا واقعہ پیش آیا اور سارا زور اسپرٹ کے بجائے فارم پر دیا جانے لگا۔

دین میں اسپرٹ کے بجائے فارم کو اہمیت دینے کا یہ فقہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے ایک رجحان ساز (trendsetter) واقعہ بن گیا۔ اِس کے بعد دینی موضوعات پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی نہج پر لکھی گئیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے — دینِ بیضا کے دینِ غیر بیضا بن جانے کا اصل سبب یہی ہے۔

فقہ کا یہ اسلوب، عملاً اہلِ علم کے درمیان عام ہوگیا۔ بعد کے اہلِ علم نے اِسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کرلیا۔ وہ اِسی انداز میں سوچنے لگے اور اِسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے۔ یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اِس سے مستثنيٰ نہیں۔

مثلاً ابن تیمیہ(وفات1328ء)کی کتاب’الصارم المسلول على شاتم الرسول‘اِسی نہج کی ایک کتاب ہے۔ اِس کتاب میں ابن تیمیہ نے شاتمِ رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ صرف اِس لیے کہ فقہا نے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطور سزا قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔ حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں۔ ابن تیمیہ اگر کتبِ فقہ سے اوپر اٹھ کر اِس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اِس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دیناہے، نہ کہ قتل کرنا۔ شاتم بظاہر دشمن نظرآتا ہو، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے۔ اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی ، قرآن کے بیان کے مطابق، دوستی میں تبدیل ہوجائے (41:34)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی(وفات1762ء)کی مشہور کتاب حجة اللہ البالغة ہے۔ اِس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت(6:149)سے ماخوذ ہے۔ مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کتاب کے تمام مباحث فقہی اسلوب پر مبنی ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں سُترہ سے لے كرجہاد تک کے تمام ابواب موجود ہیں، لیکن اِس میں دعوت الی اللہ کا باب موجودنہیں۔ حالاں کہ اگر مصنف، قرآن کے اسلوب كي چھان بينکرتے تو یقیناً وہ اِس حقیقت کو دریافت کرلیتے کہ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دی گئی ہے۔ قرآن پورا کا پورا ایک کتاب ِ دعوت ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content