ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے ’’عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رضي الله عنهماقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلمخَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3650)۔ یعنی عمران بن حصین روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہے، پھر وہ جو اس کے بعد ہے۔
اِس حدیث رسول میں اسلام کے تین ادوار کو خیر کے ادوار کہاگیا ہے۔ اِن ادوار کو قرونِ ثلاثہ یا قرونِ مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ اِن تین ادوار سے مراد ہے— عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین۔ اِن تین ابتدائی ادوار کی مدت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات(632ء)کے بعد تقریباً ایک سوسال تک رہی۔ اِس کے بعد وہ دور شروع ہوگیا جو قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعدکا دور تھا۔ گویا کہ اسلام کی تاریخ میں مستند ادوار صرف ابتدائی تین ادوار ہیں۔ بعد کے ادوار کو اسلام میں مستند حیثیت حاصل نہیں۔
اِس مسئلے کی مزید تعیین کی جائے تو کہا جائے گا کہ اسلام کے ابتدائی تین ادوا ر میں اسلام کافکری مرجع تمام تر قرآن تھا۔ ثانوی مرجع کے طورپر حدیث بھی اِس میں شامل ہے، کیوں کہ حدیث قرآن کی تشریح ہے۔ حدیث کے بغیر قرآن کو درست طورپر سمجھنا ممکن نہیں۔ تقریباً سوسال بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو فقہی دور کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کے علاقے فتح ہوئے اور بتدریج اِس علاقے کے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔یہ لوگ اسلام سے پہلے مجوسی مذہب یا مسیحی مذہب میں شامل تھے۔اِن تمام مذاہب میں اُس وقت سا ری اہمیت صرف فارم (form) کودی جاتی تھی۔ اِن لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے۔ یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جس کو فقہ کہاجاتاہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔