Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu · 6 min

اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے— یہ ایک بے بنیاد مسئلہ ہے۔ کیوں کہ یہ حکم نہ قرآن سے ثابت ہے، اور نہ حدیث سے۔ البتہ فقہا نے بطور خود ایسے مسائل وضع کرلیے ہیں، جن میں سےکچھ یہ ہیں، شاتم کی سزا قتل، مرتد کی سزا قتل ،وغیرہ۔

اس قسم کے مسائل اسلام کی اسپرٹ کے خلاف ہیں۔ اسلام کے نزدیک ایسے ایمان کی کوئی حقیقت نہیں، جو قانونی جبر کے تحت کسی نے اختیار کیا ہو۔ اسلام وہ ہے، جو قانونی جبر کے تحت نہیں،بلکہ آزادانہ طور پر اختیار کیا گیا ہو(البقره، 2:256)۔ اسلام کی اصل ذاتی دریافت ہے۔ ایمان وہ ہے جو سیلف ڈسکوری (self-discovery) کی بنیاد پر کھڑا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام کے مطابق، جہاں کوئی شخص ’’شتم ‘‘ یا ’’ارتداد‘‘ میں مبتلا پایا جائے، تو خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے دعا کی جائے، اس سے ڈسکشن کیا جائے۔ اگر اس کے اندر کچھ شک پیدا ہو ا ہے، تو اس کے شک کو علمی ڈسکشن کے ذریعے دور کیا جائے (سبا،34:46)۔ اس کو ایک مجرم کی طرح نہ دیکھا جائے، بلکہ اس طرح دیکھا جائے، جس طرح کوئی ڈاکٹر مریض کو دیکھتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا مقصد لوگوں کو فتویٰ دے کر قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کو خیرخواہی کے جذبے کے تحت اللہ کی رحمت کے سائے میں لانے کی کوشش کرنا ہے۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے ایسے افراد کا کیس بے خبری (unawareness) کا کیس ہوتا ہے۔ داعی یا مصلح کا کام یہ ہے کہ اس کی بے خبری کو توڑا جائے، اس کی فطرت کو بیدار کیا جائے۔ اس کو اپنے خالق سے قریب ہونے کا موقع دیا جائے۔ یہ کوشش کی جائے کہ اس کے اندر توبہ کی نفسیات جاگے۔یہ کوشش کی جائے کہ وہ اپنی اصلاح کرکے دوبارہ صراطِ مستقیم پر قائم ہوجائے۔

اسلام میں سماجی جرم (social crime) پر قتل کی سزا ہے، اسلام میں اعتقادی جرم (thought crime) پر قتل کی سزا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content