Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Shahadat ummate muslima ka mission
Shahadat ummate muslima ka mission

مسئلے کا حل

Urdu · 5 min

امت مسلمہ کے اندر یہ جو سخت نامحمود صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اس کا حل صرف یہ ہے کہ ان کو صحیح آئیڈیالوجی دی جائے۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں غلط آئیڈیالوجی کے شکار ہیں۔ اس کی اصلاح صرف اس طرح ہو سکتی ہے کہ ان کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر درست آئیڈیالوجی سے واقف کرایا جائے۔ اس سے کم درجے کی کوئی چیز اس صورتحال کی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

مثلاً ان لوگوں کو اس فطری حقیقت سے باخبر کرنا، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «وَلَا تَسْتَوِ الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ إِدْفَاعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ، فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَذَابَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ، وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا، وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ، وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ، فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ». سورہ نمبر 41، آیات 34 تا 36۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔

پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق انسانوں کے درمیان جو تفریق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ ہمارے دوست ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن۔ بلکہ صحیح تفریق یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمارے واقعی دوست، یعنی ایکچول فرینڈز ہیں، اور کچھ لوگ ہمارے امکانی دوست، یعنی پوٹینشل فرینڈز۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس کے مطابق اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنا دشمن نہ سمجھیں، بلکہ بلا تفریق ہر ایک کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں۔

یہی دعویٰ اسپرٹ ہے، اور اسی کا نام دعوت الی اللہ ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کو قرآن کی وہ آیت یاد دلانا ہے جس میں قتل کی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادًا فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا». سورہ نمبر 5، آیت 32۔ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا۔

اور جس نے ایک شخص کو بچایا، تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔ اسی طرح ان لوگوں کو یہ بتانا کہ مسلمان کا مسلمان کو مارنا قرآن کے مطابق ایک جہنمی فعل ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا». سورہ نمبر 4، آیت 93۔

اور جو شخص کسی مومن کو جان کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.