Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Shahadat ummate muslima ka mission
Shahadat ummate muslima ka mission

بے فائدہ جنگ

Urdu · 4 min

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: «أَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ» قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِ الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ» فقیل: کیف یكون ذلك؟ قال: «الْحَرْجُ، الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ». صحیح مسلم، حدیث نمبر 2908۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، دنیا ختم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا جب کہ قاتل یہ نہیں جانے گا کہ اس نے کیوں قتل کیا، اور مقتول یہ نہیں جانے گا کہ اس کو کیوں قتل کیا گیا۔ " کہا گیا کہ ایسا کیوں کر ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ ایسا حرج، یعنی بے معنی قتل و قتال، کے زمانے میں ہوگا۔ قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔

حرج کا مطلب شارحین حدیث نے بتایا ہے: شدت القتل و کثرتہ۔ عمدۃ القاری، جلد نمبر 7، صفحہ نمبر 58۔ یعنی قتل و قتال کی شدت اور کثرت۔ اس قسم کے مجنونانہ قتل و قتال کی صورت کسی گروہ میں کب پیش آتی ہے؟

جب وہ گروہ قوم پرستی میں دوسروں کے خلاف اندھی دشمنی تک پہنچ جائے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال ہے۔ ان کے اندر آخری حد تک یہ ذہن پیدا ہو گیا ہے کہ انہوں نے قومی حمایت میں دوسروں کو اپنا ابدی دشمن سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دوسری قومیں ان کے خلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتی ہیں۔

اس خود ساختہ سوچ کی بنا پر دوسری قوموں کے خلاف ان کے دل میں جنون کی حد تک نفرت اور تشدد کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر تشدد یعنی وائلنس کا جو انتہا پسندانہ ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ وہ نہ صرف دوسری قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو گئے ہیں، بلکہ خود ان مسلمانوں کے خلاف بھی، جن کے بارے میں وہ یہ فرض کر لیں کہ وہ ان کے دشمنوں کے حامی ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہ حال ہے کہ مسلمانوں کے مختلف ٹیررسٹ گروپ بن گئے ہیں، اور مختلف مقامات پر قتل و قتال کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں۔

حتیٰ کہ اسکول کے بچوں، مسجد کے نمازیوں، اور قبرستان کے سوگوار افراد پر بھی قتل و قتال کا یہ انجسٹیفائیڈ ہنگامہ اتنا زیادہ ہے جیسے کہ ان لوگوں نے قتال برائے قتال کو خود ایک مطلوب کام سمجھ لیا ہے، خواہ اس کے لیے ان کے پاس کوئی معقول سبب، یعنی جسٹیفائیڈ ریزن، موجود نہ ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.