آج شدید ضرورت ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے اس انتباہ کو تمام دنیا کے مسلمانوں کو یاد دلایا جائے، جو آپ نے اپنے آخری زمانے میں حجۃ الوداع کے موقع پر دیا تھا۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق اس کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس رضی اللہ عنہما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم النحر فقال: يا أيها الناس أي يوم هذا؟ قالوا يوم حرام.
قال: فأي بلد هذا؟ قالوا بلد حرام. قال: فأي شهر هذا؟ قالوا شهر حرام.
قال: فإن الدماءَكم وأموالَكم وأعراضَكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا. فأعادها مرارًا ثم رفع رأسه فقال: اللهم هل بلغت؟ اللهم هل بلغت؟ قال ابن عباس رضي الله عنهما: فوالذي نفسي بيده إنها لوصيته إلى أمته فليبلغ الشاهد الغائب: لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض.
صحیح البخاری حدیث نمبر 1739 ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے یوم النحر کو لوگوں کے سامنے ایک خطبہ دیا۔ آپ نے کہا کہ اے لوگو آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ یوم حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے؟
لوگوں نے کہا کہ یہ شہر حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ حرام کا مہینہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سن لو کہ تمہارا خون، تمہارے مال، اور تمہاری عزت تمہارے اوپر حرام ہے، جیسا کہ آج کا دن حرام کا دن ہے، اور تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں۔
آپ نے یہ کلمات بار بار فرمائے۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا؟ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک یہ آپ کی وصیت ہے اپنی امت کے لیے، پس جو حاضر ہے وہ ان کو پہنچا دے جو حاضر نہیں ہے۔
پھر ابن عباس نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا یہ قول ذکر کیا: "تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.