Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۃ سویق

Urdu · 1 min read

ذوالحجہ2ھ

غزوۃ بدر کی شکست کے بعد جب ان کے بچے ہوئے لوگ مکہ پہنچے تو مکہ میں اس شکست کا خوب چرچا ہوا۔ ابو سفیان جو مکہ کے سردار تھے اور ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ انہوں نے قسم کھائی کہ میں جب تک مسلمانوں پر حملہ کرکے اس وقت تک غسل نہیں کروں گا۔

چنانچہ وہ اور دو سو سوار جارحانہ ارادہ کے تحت مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ لوگ مقام عریض تک پہنچے جو کہ مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں وہ لوگ ایک کھجور کے باغ میں گھسے۔ وہاں دو شخص زراعت کے کام میں مصروف تھے۔ ایک شخص انصار میں سے تھا اور دوسرا مزدور تھا۔ انہوں نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور کچھ درخت جلا دیےاور سمجھے کہ ہماری قسم پوری ہوگئی، اور پھر واپس چلے گئے۔ پیغمبر اسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ دو سو مسلمانوں کے ساتھ ابو سفیان کے تعاقب میں روانہ ہوئے مگر وہ لوگ آپ کے پہنچنے سے پہلے جا چکے تھے۔ چلتے وقت وہ لوگ اپنے ستوکے کچھ تھیلے وہاں چھوڑ گئے وہ سب مسلمانوں کو مل گئے۔ اسی لیے اس غزوہ کا نام غزوۃ السویق یعنی ستو والا غزوہ پڑ گیا۔

9ذوالحجہ کو پیغمبر اسلام غزوہ السویق سے مدینہ واپس آئے اور10 ذوالحجہ کو عید الاضحی کی دو رکعت نماز مسلمانوں کے ساتھ ادا کی۔ اور دو مینڈھے قربانی کیے اور مسلمانوں کو قربانی کا حکم دیا۔ یہ اسلام میں پہلی عیدالاضحی تھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.