Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۃ بنی قینقاع

Urdu · 2 min read

شوال2ھ

قبیلہ بنی قینقاع یہودی عالم عبداللہ بن سلام کی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی شجاعت و بہادری مشہور تھی۔ اکثر لوگ زرگری کا کام کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام ان کے بازار میں گئے اور ان کو جمع کرکے انہیں اسلام کا پیغام دیا۔ آپ نے کہا کہ اے گروہ یہود، تم لوگ اللہ سے ڈرو۔ بدر میں جس طرح قریش خدا کی پکڑ میں آگئے، ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی طرح خدا کی پکڑ میں آ جائو۔ اسلام کو مان لو، یقینا تم جانتے ہو کہ میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ تم اس کو اپنی کتاب میں پاتے ہواور اللہ نے تم سے اس کا عہد لیا ہے۔

یہود اس تقریر کو سن کر بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ کا مقابلہ ایک ناواقف اور ناتجربہ کار قوم(قریش) سے تھا، جس میں آپ غالب ہوگئے۔ بخدا اگر ہم سے مقابلہ ہو تو آپ جان لیں گے کہ ہم مرد ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام جب مکہ کو چھوڑ کرمدینہ آئے تھے تو وہاں کے یہودی قبائل بنی قینقاع اور بنی قریظہ اور بنی نضیر سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم نہ آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمن کو کسی قسم کی مدد دیں گے۔ قینقاع نے عہد شکنی کی اور آپ سے جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ یہ یہودی قبیلے مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے مدینہ میں اپنی جگہ ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاری کو مقرر کیا۔ اور بنی قینقاع کی بستی کی طرف روانہ ہوئے۔ یہود نے قلعہ میں داخل ہو کر اس کا دروازہ بند کر لیا۔ پیغمبر اسلام نے پندرہ شوال سے یکم ذی قعدہ تک ان کا محاصرہ کیا۔ آخر کار وہ لوگ دو ہفتہ بعد قلعہ سے اترے۔ آپ نے ان کو قتل نہیں کیا البتہ حکم دیا کہ ضروری سامان لے کر وہاں سے چلے جائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content