Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-221)

Urdu · 2 min

سوال: آج ایسے قائد کی اشد ضرورت ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کر سکے۔ آپ کی کئی کتابیں اور الرسالے کا مسلسل مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قیادت کے لائق صرف آپ کی شخصیت ہی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی احسن طور پر رہنمائی کر سکتی ہے، بشرطیکہ علمائے کرام اور دانشوروں کا طبقہ بغیم بینہم کے مرض سے دور ہو جائے۔ نثار احمد خان سلفی، امام و خطیب مسجد اہل حدیث مومن پورہ، ناگپور۔ جواب: قیادت کا مسئلہ نامزدگی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ قبولیت کا مسئلہ ہے۔

کوئی شخص قائد اس وقت بنتا ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت اس کو اپنے قائد کے طور پر قبول کر لے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دونوں ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے تھے؛ دونوں نے مسلمانوں کے اندر کام کیا اور ان کو منظم کرنے کی کوشش کی، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں کے قائد بن گئے، لیکن ابوالکلام آزاد عملاً مسلمانوں کے قائد نہ بن سکے۔ اس کا سبب سادہ طور پر صرف یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر محمد علی جناح کو قبول کر لیا، اور ابوالکلام آزاد کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہ ہو سکے۔ یہی معاملہ ساری مسلم دنیا کا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ شعوری اعتبار سے پچھڑی ہوئی قوم بن گئے ہیں۔ ان میں جب تک شعوری بیداری نہ لائی جائے، کسی صالح قیادت کا ان کے اندر ابھرنا ممکن نہیں۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 221۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.