← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
(Page-220)
Urdu · 3 min
سوال۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ذہین لوگوں کے لیے گنجائش نہیں ہے؟ یہ سوال اس لیے ذہن میں پیدا ہوا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ماضی میں اور حال میں بھی ذہین یا منطقی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ مثلاً ماضی میں سید شہاب الدین سہروردی کو قتل کر دیا گیا، جبکہ وہ ابھی صرف 37 سال کے تھے، مگر بہت ذہین انسان تھے۔
ابن رشد کو جیل میں ڈالا گیا، رازی، فارابی اور بو علی سینا پر کفر کا فتویٰ لگا کر ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے یہاں سر سید احمد خان کی تکفیر کی گئی اور انہیں ذلیل کیا گیا۔ ڈاکٹر اقبال پر بھی کفر کا الزام لگایا گیا۔ بو علی سینا نے بھی اپنے ایک فارسی قطعے میں کہا ہے کہ یہاں اگر رہنا ہے تو گدھا بن کر رہو، اگر عقلمند بنو گے تو پھر خیر نہیں۔
کیا اسلام میں ایسے ہی لوگوں کی گنجائش ہے جو منطقی نہ ہوں، استدلالی نہ ہوں، اپنی عقل و فہم کی روشنی میں حیات و کائنات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوں؟ احساس آفاقی، کرلا، ممبئی۔ جواب۔ آپ نے چند مثالوں کو لے کر ان کو جنرلائز کر دیا ہے، حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔
اسلام میں فکری آزادی کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تفصیل کے لیے آپ میری کتاب "دینِ انسانیت" کا باب "حریتِ فکر" ملاحظہ فرمائیں، ان شاء اللہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ قرآن میں بار بار اہلِ عقل کو خطاب کیا گیا ہے، یہاں تک کہ خود قرآن کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ عقل والے اس پر غور کریں۔ سورہ صاد، آیت 29۔
چنانچہ ہر دور میں عقلی غور و فکر کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ آپ "نہج البلاغہ" کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی کتنا زیادہ عقلی غور و فکر کو پسند کرتے تھے۔ عباسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے دور میں عقلی غور و فکر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی، جس کی تفصیل آپ فلپ ہٹی کی کتاب "History of the Arabs" میں دیکھ سکتے ہیں۔ قدیم زمانے میں فخر الدین رازی کی زخیم تفسیر اور موجودہ زمانے میں جوہری تنطاوی کی مفصل تفسیر قرآن کی عقلی تشریح کی مثالیں ہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب "حجت اللہ البالغہ" خاص اسی مقصد کے لیے لکھی۔ خود راقم الحروف نے تقریباً 40 سال سے اسلام کی عقلی اور سائنسی تشریح کو اپنا موضوع بنایا ہے، اور اس پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں۔ مگر ساری مسلم دنیا میں کسی بھی شخص نے اس پہلو سے میری مخالفت نہیں کی۔ تاہم بعد کے زمانے میں ایک غلط مسئلہ مسلمانوں میں پھیل گیا، اور وہ یہ کہ جو شخص رسول کی اہانت کرے یا اسلام کی اہانت کرے، اس کو قتل کر دیا جائے۔
اس مسئلے کی بنا پر کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا، مگر یہ مسئلہ بذاتِ خود غلط ہے، اس کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میں نہیں۔ اس مسئلے کی ذمہ داری بعد کے دور کے کچھ مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ خود اسلام پر۔ اس معاملے میں شرعی حکم کو سمجھنے کے لیے آپ راقم الحروف کی کتاب "شتم رسول" کا مسئلہ مطالعہ فرمائیں۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 220۔