سوال: آپ کے تعمیری انداز اور پلس طریقِ تعلقات، اور دنیاوی اور دینی اندازِ عمل سے غیر متفق ہونے کا سوال ہی نہیں۔ لیکن ہم تجربہ حاصل کر رہے ہیں کہ پریکٹیکل لائف میں خیالات کی صحت مندی کام دینے سے قاصر ہے۔ لوگ، بالخصوص دیگر اور الگ الگ مذاہب کے لوگ، اب بالکل ہی بے حس ہو گئے ہیں۔ وہ دوسروں کی پرابلم کو یا اوروں کی مصیبتوں کو سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔
انجام کیا ہوگا؟ عدنان کریمی، حیدرآباد۔ جواب: موجودہ زمانے کے مسلمان اور ان کے رہنما ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ نماز روزے کے مسائل اور حج کے آداب جیسے معاملات میں تو اسلام سے رہنمائی لینے کے لیے تیار ہیں، مگر جہاں تک ان کے ملی اور قومی مسائل کی بات ہے، تو وہ ان معاملات میں اپنی خواہشوں پر چلنا چاہتے ہیں۔
میرے نزدیک اس تضاد کی موجودگی میں ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔ جب تک وہ اس تضاد سے باہر نہ آئیں، ان کا کوئی بھی دنیاوی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس سے بھی زیادہ غیر اسلامی بات یہ ہے کہ الرسالے میں جس "adjustment" کی بات کہی جاتی ہے، ہر مسلمان، عوام اور خواص دونوں اپنے ذاتی معاملات میں عین اسی "adjustment" کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔ جہاں ان کے ذاتی interest کا مسئلہ ہو، وہاں وہ فوراً "adjustment" کے اصول کو اختیار کر لیتے ہیں۔
البتہ جب انہیں ملی مسائل پر بولنا اور لکھنا ہو، تو وہ "adjustment" کو بزدلی کہہ کر اسے رد کر دیتے ہیں۔ انفرادی اور قومی زندگی کا یہ تضاد بلاشبہ ایک جرم ہے۔ اس جرم کی موجودگی میں یہ امر بھی سخت مشتبہ ہے کہ دینی مسائل کے معاملے میں ان کی مذکورہ روش اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ قبول قرار پائے۔ آپ نے یہ شکایت کی ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے مسائل کے حل میں ان کی مدد نہیں کرتے۔
ایک غیر ضروری شکایت ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوتا، حتیٰ کہ رشتے داروں کے درمیان بھی نہیں۔ مسلمانوں کو یا تو اپنا مسئلہ خود حل کرنا ہوگا یا ان کے مسائل ہمیشہ غیر حل شدہ حالت میں پڑے رہیں گے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 218۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.