Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-217)

Urdu · 4 min

سوال: آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ مسلمان 200 سال سے ملیٹنسی کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے ایسا لکھا ہے، اور اگر لکھا ہے تو کس دلیل کی بنیاد پر لکھا ہے؟ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔ اقْرَأْ الرِّسَالَةَ أَبُو دَابِي جواب: ایسا میں نے کبھی نہیں لکھا، یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔

البتہ میں نے ایک اور بات لکھی ہے، اور کچھ غیر ذمہ دار لوگ اس کو بگاڑ کر میرے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ جو لوگ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَوَاضِعِهِ الْمَائِدَةِ تیرا۔ میں نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر مسلم مقررین اور محررین دورِ جدید میں اسلامی جدوجہد کا آغاز 1799 سے کرتے ہیں، جبکہ میسور کے سلطان ٹیپو انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اگر 1799 کو آغاز مانا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان 200 سال سے اپنے مسائل کے حل کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

یہ مسلح جدوجہد ابھی تک مختلف مقامات پر جاری ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ 200 سال کی اس مسلح جدوجہد کا کوئی بھی مثبت نتیجہ اسلام کے لیے یا مسلمانوں کے لیے نہیں نکلا۔ اب بھی مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے شکایت اور احتجاج کی زبان بول رہے ہیں۔ اس طرح یہ تمام لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ لمبی مدت تک اس مسلح جدوجہد کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔

اب میں کہتا ہوں کہ عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اپنے طریقہ کار کے بارے میں نظرِ ثانی یعنی ریویژن کا عمل کیا جائے۔ ہندوستان میں 1857 میں آزادی کی تحریک مسلح انداز میں شروع کی گئی۔ جب وہ بے فائدہ ثابت ہوئی تو 1919 میں اس طریقہ کار کو بدل کر آزادی کی تحریک کو پرامن طریقہ کار کے اصول پر چلایا گیا۔ خود اسلام کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10,000 صحابہ کے ساتھ 8 ہجری میں طائف کی طرف اقدام فرمایا۔ وہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ بروقت حالات موافق نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ نے طائف کا محاصرہ چھوڑ کر مدینے کی طرف واپسی کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح غزوہ موتہ کے موقع پر ابتدائی جنگ کے بعد اندازہ ہوا کہ جنگ کا جاری رکھنا اہلِ اسلام کے حق میں نہیں ہے، تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہو کر مدینہ آ گئے، وغیرہ۔

میں اسی نظرِ ثانی یعنی ریویژن کی بات کرتا ہوں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ 200 سال کی مسلح جدوجہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلح طریقہ کار موجودہ حالات میں ہمارے لیے کارآمد نہیں ہے۔ اس لیے اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسلح طریقہ کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور پرامن طریقہ کار کا تجربہ کریں۔ پرامن طریقہ کار سے مراد ہے مسلمانوں کی داخلی اصلاح، مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانا، مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا، مسلمانوں کو جدید اقتصادیات میں آگے بڑھانا، جدید وسائل کی مدد سے دعوت و تبلیغ کا کام کرنا، مسائل کو نظرانداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا، وغیرہ۔

کتاب سوال و جواب جلد اول مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 217.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.