سوال: میں انگریزی زبان میں کمزور ہوں، فکر و نظر کو تقویت بخشنے میں عربی کے ساتھ انگریزی کا کردار آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے انگریزی زبان جس اصول و طریقے کے مطابق سیکھی ہے، اس سلسلے میں کوئی نمونہ لکھ بھیجیں تاکہ میں اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو سکوں۔ رضوان اللہ الرياضي ریاض جواب: کسی کا قول ہے کہ پڑھنے سے پڑھنا آتا ہے اور لکھنے سے لکھنا آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی زبان کو سیکھنا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو فوراً شروع کر دے اور اس کو مسلسل جاری رکھے۔
اس معاملے میں آدمی کا شوق اور اس کی محنت ہی اس کے سب سے بڑے معلم ہیں۔ میں نے افریقہ میں ایک تاجر کو دیکھا کہ وہ مسلسل انگریزی بولنے کی کوشش کرتا تھا، اگرچہ اس کی زبان میں گرامر کے لحاظ سے بہت سی غلطیاں ہوتی تھیں۔ کسی نے اس سے کہا کہ جب تم انگریزی نہیں جانتے تو تم کیوں بولتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آ جائے۔
I speak incorrect English so that I may be able to speak correct English. کتاب: سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 216۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.