Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

Second question.

Urdu · 3 min

سوال: ایک فیکٹری میں مختلف مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں، وہاں میرے ماموں زاد بھائی بھی ایک ورکر کی حیثیت سے ہیں۔ جب میں ان سے ملاقات کے لیے گیا تو وہاں پر موجود دوسرے لوگوں نے مجھ سے اسلام کے متعلق سوالات کیے۔ میں نے اپنے علم کے مطابق ان کے سوالات کے جواب دیے۔ ان سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان بے رحم اور خونخوار قوم ہے، اس لیے کہ ان کی مذہبی کتاب قرآن نے خون بہانے یعنی جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کا حکم دیا ہے، جو کہ غلط ہے۔

مزید یہ کہ یہ انسانیت کے خلاف ہے اور بے رحمی کا ثبوت بھی۔ میں نے حتیٰ کہ ان کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی، مگر انہیں تسلی نہ ہو سکی۔ آپ اس سوال کا فکری جواب وضاحت کے ساتھ لکھیں: جاوید انجم سہراب علی، نئی دہلی۔ جواب: جانور کو ذبح کرنا مسلمان صرف مسلمان کا اصول نہیں، وہ فطرت کا عام اصول ہے۔

موجودہ دنیا میں کوئی بھی شخص، حتیٰ کہ سوال کرنے والے لوگ بھی، اس سے بری نہیں۔ دنیا میں بسنے والے انسانوں میں، بشمول ہندوستان، بیشتر لوگ حیوانی غذا استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ بظاہر حیوانی غذا نہیں لیتے، وہ بھی بالواسطہ طور پر ایسا ہی کرتے ہیں۔ پانی، دودھ، سبزی، پھل، یا کوئی بھی چیز جس کو انسان کھاتا ہے، ان سب میں خرد بینی زندگیاں ہوتی ہیں۔

ان زندگیوں کو قتل یا ذبح کیے بغیر کوئی شخص ویجیٹیرین غذا بھی نہیں لے سکتا۔ جس کو اس معاملے میں شبہ ہو، اس سے کہیے کہ وہ دودھ کو خرد بین کے شیشے کے نیچے رکھ کر دیکھ لے۔ اصل یہ ہے کہ ذبح حیوان ہمارے لیے انتخاب یعنی choice کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ ہمارے لیے مقدر یعنی destiny کا معاملہ ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کے بغیر زندگی کا کوئی امکان ہی نہیں۔

موجودہ دنیا میں اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں ذبح حیوان کے بغیر جینا چاہے تو اس کو خود اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑے گا، کیونکہ ایسے کسی انسان کے لیے یہاں صرف خودکشی کا امکان ہے، اس کے لیے زندگی کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 215۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.