Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-212)

Urdu · 3 min

سوال: مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی تشدد پسندی کے موضوع پر کئی کتابیں اب تک شائع ہوئی ہیں۔ آپ بھی اس موضوع پر لکھتے ہیں اور اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں۔ میں نے آپ کی تحریروں میں پایا ہے کہ آپ مسلمانوں کے اس تشدد کو غلط بتاتے ہیں، دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ درست ہے۔ کیونکہ مسلمان اپنے جائز حق کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

رائے میں یہ اختلاف کیوں؟ ایک قاری، الرسالہ، کشمیر۔ جواب: اپنے جائز حق کے لیے کوشش کرنا اور تشدد کا استعمال، دونوں دو مختلف چیزیں ہیں، اور دونوں کا حکم ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک کی حیثیت نظری اور اصولی ہے، اور دوسرے کی حیثیت عملی طریقہ کار کی۔

اگر سوال یہ ہو کہ کسی شخص یا گروہ کو اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا درست ہے یا نہیں، تو ہر شخص یہ کہے گا کہ جائز حق کے لیے کوشش کرنا اصولاً بالکل درست ہے۔ مگر جہاں تک تشدد کا سوال ہے، وہ عملی طریقہ کار سے تعلق رکھتا ہے، اور طریقہ کار کے بارے میں متفقہ طور پر یہ حکم ہے کہ پرامن طریقہ کار درست ہے، اور پرتشدد طریقہ کار درست نہیں۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ پرامن طریقہ کار اختیار کرے یا پرتشدد طریقہ کار، تو لازماً اس کو پرامن طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے اور پرتشدد طریقہ کار کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اپنے حق کے لیے پرامن طریقہ کار کے ذریعے جدوجہد کرنا بالکل درست ہے، مگر اپنے حق کے لیے پرتشدد طریقہ کار اختیار کرنا ہرگز درست نہیں۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے: اس طرح کے معاملات میں اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ فریق ثانی جب تشدد کر رہا ہو تو ہم کیسے پرہیز کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک طرفہ طور پر مار کھاتے رہیں؟ یہ بات بالکل غلط ہے۔ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے دعوے کے مطابق ان پر تشدد ہو رہا ہے، وہاں مسلمانوں نے خود ہی تشدد کا آغاز کیا۔

اس کے بعد فریق ثانی نے ان کے مقابلے میں جوابی تشدد کیا۔ میرے علم کے مطابق ہر جگہ ایسا ہی ہوا ہے۔ مسلمان اگر اپنی جدوجہد کو پرامن طریقہ کار کے حدود میں رکھتے تو ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ فریق ثانی انہیں اپنی گولی اور اپنے بم کا نشانہ بنائے۔ اس معاملے کے اصل ذمہ دار مسلم عوام نہیں ہیں، بلکہ ان کے خود ساختہ لیڈر ہیں جو جوش دلا کر انہیں تشدد پر اکساتے ہیں۔

یہ مسلم لیڈر دورِ جدید کی ایک اہم حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ دورِ جدید کے مانے ہوئے اصول کے مطابق پرامن جدوجہد مکمل طور پر جائز ہے اور پرتشدد جدوجہد مکمل طور پر ناجائز۔ یہ فرق آج عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر اس حقیقت کو جانتے اور اس کے مطابق مسلمانوں کی رہنمائی کرتے تو مسلمان ان تباہیوں سے بچ جاتے جو اس بین الاقوامی اصول کی خلاف ورزی کے نتیجے میں انہیں پیش آ رہی ہیں۔

کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 212۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.