سوال: کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ساری دنیا ایک ہو گئی ہے، اس کا خوبصورت نام گلوبلائزیشن ہے، مگر جیسا کہ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے۔ مغرب کی مسلم دشمن طاقتیں گلوبلائزیشن کے نام پر اسلام کو اپنے جال میں پھنسا لینا چاہتی ہیں۔ اس نئے خطرے کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی۔
جواب: گلوبلائزیشن میرے نزدیک فتنہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ گلوبلائزیشن سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن اور دوسرے ذرائع اتنا زیادہ وسیع ہو گئے ہیں کہ ساری دنیا ایک گاؤں، یعنی گلوبل ولیج، کی مانند ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال ایک عظیم موقع ہے۔ اس دنیا میں خدا نے ہر ایک کو آزادی دی ہے، اس لیے دوسرے لوگ اگر اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں تو آپ کو ان کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں۔
آپ کے احتجاج سے یہ نہیں ہو سکتا کہ دوسرے لوگ ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان جدید مواقع کو سمجھا جائے اور ان کو استعمال کیا جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اللہ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا کے ایک ایک گھر میں پہنچا دے گا۔ جدید مواصلاتی ذرائع سے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے۔
جدید مواصلاتی ذرائع نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ حق کی شہادت کے خدائی منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔ عقبہ بن نافع، تابعی، افریقہ میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اس پار بھی کچھ لوگ آباد ہیں تو میں وہاں تک پہنچتا، تاکہ کوئی بھی شخص اللہ کے پیغام، اللہ کا پیغام پانے سے محروم نہ رہے۔ مگر آج اس گلوبلائزیشن کی بنا پر ہم دنیا کے ہر خطے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جان چکے ہیں۔
اسی بنا پر یہ ممکن ہوا ہے کہ ہم باآسانی ہر جگہ پہنچ سکیں۔ پھر اسی بنا پر یہ بھی ممکن ہوا ہے کہ جدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے لٹریچر اور دوسری صورتوں میں بہت کم مدت میں سچائی کا پیغام زمین کے ہر گوشے میں پہنچایا جا سکے۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 211۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.