Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-210)

Urdu · 3 min

سوال: میں نے عالمی تاریخ کی کچھ کتابیں پڑھیں اور کچھ مورخین کے تبصرے پڑھے، ان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے پوری انسانی تاریخ شورش اور ہنگاموں کی تاریخ ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسے لمحات ملتے ہیں جبکہ پرسکون اور معتدل ماحول میں انسان کو جینے کا موقع ملا ہو۔ تاریخ کے اس منظر کو دیکھ کر کچھ لوگ خدا پر شک کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خدا اگر عادل ہے تو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ کیوں؟ براہِ کرم اس سوال پر روشنی ڈالیں۔

عبدالرحمن ناندیڑ۔ جواب: دنیا کے بارے میں مذکورہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے۔ لیکن اگر دنیا کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے تو نہایت آسانی سے اس کا جواب مل جاتا ہے، اور یہ یقین ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا چاہیے تھا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ، یعنی کریشن پلان، کیا ہے۔

قرآن کے مطابق وہ تخلیقی نقشہ امتحان، یعنی ٹیسٹ، کے اصول پر مبنی ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نے انسان کو اس لیے نہیں بسایا کہ وہ یہاں عیش کرے؛ عیش کی زندگی انسان کو اس کے عمل کے مطابق آخرت میں ملے گی۔ موجودہ دنیا کا سارا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ ہر انسان اور ہر گروہ امتحان کی کسوٹی پر آ سکے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ معتدل حالات میں کسی انسان کی اصل حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔

لوگ خوبصورت لفظوں اور خوشنما کپڑوں میں اپنے آپ کو چھپائے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو ایکسپوز کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں اضطراب، یعنی ڈسٹربنس، لایا جائے۔ اس معاملے میں انسان کی مثال انڈے جیسی ہے: اوپر سے دیکھنے میں ہر انڈا اچھا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جب انڈوں کو توڑا جائے، اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون انڈا اچھا تھا اور کون انڈا خراب۔

اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ امتحان ہے، اور امتحان کے لیے غیر معمولی حالات کا پیش آنا لازمی ہے۔ اس لیے بار بار ہر فرد اور ہر گروہ کی زندگی میں غیر معمولی حالات پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ یہ معلوم ہو کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کیسا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں حق پرست تھا یا اس نے صرف ظاہری طور پر حق کا نمائشی خول اپنے اوپر ڈال لیا تھا؟ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 210۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.