سوال: میں "ماہنامہ الرسالہ" کا ریگولر قاری ہوں، مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ آپ ہمیشہ ناامیدی کے حالات میں امید کا پہلو تلاش کرتے ہیں، مایوسی کے حالات میں ہمت اور عزم پیدا کرنے والی بات کرتے ہیں، مگر مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ جو مسلمانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں اور دنیا بھر میں لوگ مسلمانوں کو مٹا ڈالنا چاہتے ہیں، ان کی باتیں مسلمان خوب شوق سے سنتے ہیں، مگر آپ مسلمانوں کو خوشخبری دیتے ہیں تو مسلمانوں کو آپ کی بات اچھی نہیں لگتی، ایسا کیوں ہے؟ محمد اصغر، نئی دہلی۔ جواب: آپ کے اس سوال پر مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے، ایک بار میں بی بی سی لندن یعنی ہندی سن رہا تھا، انہوں نے پروگرام کے مطابق موریشس میں مقیم ایک ہندو کا خط پڑھ کر سنایا، خط میں شکایت کی گئی، خط میں شکایت کی گئی تھی کہ بی بی سی لندن اپنے ہندی پروگرام میں ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں دیتا ہے، مگر اس کے ہندی پروگرام میں کبھی موریشس کی کوئی خبر نہیں آتی، حالانکہ موریشس میں ہندی بولنے والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔
بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام یہ ہے کہ وہ بیڈ نیوز یعنی بری خبریں نشر کرے، جبکہ موریشس میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا، "And good news is no news. " یہی معاملہ موجودہ مسلمانوں کا ہے، آج کے مسلمان اپنے پریس اور اپنے اسٹیج سے اپنے بارے میں بری خبریں سنتے سنتے اس کے اپنے زیادہ عادی ہو چکے ہیں کہ اب اپنے بارے میں اچھی خبریں ان کو اجنبی معلوم ہونے لگی ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ان کے بارے میں کوئی اچھی خبر بھی صحیح ہو سکتی ہے۔
موجودہ مسلمانوں کے اس مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ "Good news is no news for a Muslim." کسی قوم کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ واقعہ پیش آنے کے وقت پہلے ہی مرحلے میں اس کو ہوشمند لیڈر مل جائے، جیسا کہ 200 سال پہلے امریکہ کے ساتھ پیش آیا، مثلاً جیفرسن، واشنگٹن، لنکن وغیرہ بدقسمتی سے انہی 200 سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ اس وقت کرنے کا کام یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن کے الفاظ میں عُصر میں یُسر کا راز بتایا جائے، مگر ساری دنیا کے مسلم لیڈر صرف عُصر کی اصطلاحوں میں لکھتے اور بولتے رہے۔ میرے علم کے مطابق کوئی بھی قابل ذکر مسلمان ایسا نہیں نکلا جو یُسر کی اصطلاحوں میں بات کرے۔ اس مدت میں کچھ لوگوں نے فضائل کی زبان میں کچھ بشارتیں سنائیں، مگر اس قسم کی بشارتیں افیون کی گولی ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت رہنمائی۔
اس طرح لمبی مدت تک منفی ماحول میں جینے کی وجہ سے مسلمانوں کا حال وہ ہو گیا ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی مثال ساس اور بہو کے روایتی جھگڑے جیسی ہے، جو ساس اپنی بہو کے بارے میں منفی ذہنیت کا شکار ہو چکی ہو، اس کے سامنے اگر بہو کی خوبیاں بیان کی جائیں تو ساس کو یقین نہیں آئے گا، عین ممکن ہے کہ اس کی بات کو سن کر وہ غصہ ہو جائے۔ البتہ اگر بہو کی برائی بیان کی جائے تو وہ خوب خوش ہوگی اور بلا ثبوت بہو کے خلاف باتوں کو مان لے گی۔ ٹھیک یہی معاملہ برعکس طور پر بہو کے بارے میں بھی درست ہے۔
موجودہ مسلمانوں کی یہی کمزوری ہے جس کی بنا پر ان کا حال وہ ہو گیا ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو نہ اپنائیں گے، اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا لیں گے۔ الاعراف 146۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 208۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.