سوال: آپ نے الرسالہ ماہ جون 2002 میں لکھا ہے کہ اسی طرح گجرات میں جن لوگوں نے جگہ جگہ خونی فساد کیا، وہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے، نہ کہ ہندو۔ یہ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوتے تو ایسا واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ صفحہ 26۔ واقعہ یہ ہے کہ آج دنیا میں سارا فساد تعلیم یافتہ لوگوں ہی کی وجہ سے ہے۔
اس لیے اس طالب علم کا قول ہے: "Education without ethics is an evil. " ابن غوری، نلگنڈا، تلنگانہ۔ جواب: تعلیم یافتہ سے ہماری مراد ڈگری یافتہ نہیں ہے، بلکہ شعور کا مالک ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جس سماج میں لوگ پڑھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، وہاں ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، یعنی مصلحین اور عام لوگوں کے درمیان فکری بُعد، یعنی intellectual gap۔
ہمیشہ اور ہر دور میں مصلحین ہوتے ہیں، لیکن اگر سماج میں تعلیم عام نہ ہو تو لوگ ان مصلحین کی باتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس بنا پر سماج میں تربیتِ شعور کا عمل رک جاتا ہے۔ یہی خاص حکمت ہے جس کی بنا پر تمام اعلیٰ دماغ لوگ عمومی تعلیم کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم کا مقصد جاب حاصل کرنا ہے۔
میرے نزدیک جاب کا مسئلہ ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہاں مصلحین ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو کسی بات کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں، جبکہ بے پڑھے لکھے سماج میں ایسے افراد موجود نہیں۔ غیر تعلیم یافتہ سماج میں لوگ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ معاملات کا گہرا تجزیہ نہیں کر سکتے۔
مثلاً اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں اصل قیادت کا فقدان ہے، حالانکہ یہ ایک غیر واقعی بات ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں اصل مسئلہ فقدان قیادت نہیں ہے، بلکہ فقدان قبولیتِ قیادت ہے۔ ہمارے یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان افراد کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے جو ہائی پروفائل میں بولتے ہوں، حالانکہ دانشمند ہمیشہ لو پروفائل میں کلام کرتا ہے۔ اسی طرح باہمی نزاعات میں لوگ اکثر ideal solution کی بات کرنے لگتے ہیں، حالانکہ اس طرح کے معاملات ہمیشہ practical solution کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔
اسی طرح آپ دیکھیں گے کہ اکثر لوگ قومی معاملات میں بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ غیر مفاہمانہ انداز میں کلام کرتے ہیں، حالانکہ یہی لوگ خود اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور مصالحت کے ذریعے حل کرتے ہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملے میں آدمی کی جبلت، یعنی instinct، ہی رہنمائی کے لیے کافی ہے جو ہر ایک کو حاصل ہوتی ہے۔ مگر ملی اور قومی معاملات میں مفاہمت اور مصالحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ شعور درکار ہے، جو ایک کم تعلیم یافتہ معاشرے میں لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 207۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.