Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-205)

Urdu · 5 min

سوال: ماحولیاتی پرابلم، یعنی ایکولوجیکل پرابلم کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے؟ آج کل کے زمانے میں ساری دنیا میں اس مسئلے کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے پر بہت زیادہ سوچ بچار ہو رہا ہے۔ اگر ممکن ہو تو بتائیں کہ اسلام میں اس مسئلے کے بارے میں کیا روشنی ڈالی گئی ہے۔

کرس... کرس فلپاٹ، برمنگھم۔ جواب: ماحولیات کا مسئلہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ فطرت کا قائم کیا ہوا نظام بگڑ جائے۔

ایئر پولیوشن، واٹر پولیوشن، گلوبل وارمنگ وغیرہ مسائل اس لیے پیدا ہوئے کہ جدید انڈسٹری یا جدید مشینی تہذیب کی وجہ سے فطرت کا بنایا ہوا نظام اپنی اصل حالت پر قائم نہ رہا، اس میں بگاڑ آ گیا۔ اس معاملے میں قرآن کی رہنمائی اس اصول پر قائم ہے کہ فطرت کے قائم شدہ نظام کو درہم برہم نہ کرو۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے دنیا کو ہر... قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے دنیا کی ہر چیز معین مقدار میں بنائی۔

سورہ الحجر، آیت 19۔ اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ خدا نے دنیا کا نظام کس طرح کامل انداز میں بنایا کہ تم اس کے اندر کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ الملک 3۔ اسی حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں انسان کو یہ حکم دیا گیا: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا الاعراف، آیت 56۔

یعنی زمین میں فساد نہ کرو، اس کی اصلاح کے بعد۔ اس طرح کی مختلف آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ہماری دنیا کو انتہائی متوازن یعنی بیلنسڈ صورت میں بنایا ہے۔ اس کی ہر چیز انتہائی صحیح تناسب یعنی رائٹ پروپورشن میں ہے۔ خدا جو اس دنیا کا مالک ہے، اس نے اس دنیا کو انسان کے حوالے کرتے ہوئے یہ تاکید کی کہ تم...

کہ تم کو یہ حق حاصل ہے کہ تم دنیا کو اپنے لیے استعمال کرو، مگر تم کو یہ حق حاصل نہیں کہ تم اس کو بگاڑو۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ترقی کا منصوبہ اس طرح بنائے کہ دنیا میں فطرت کا قائم کیا ہوا توازن ٹوٹنے نہ پائے۔ یہاں کی مختلف چیزوں میں جو تناسب رکھا گیا ہے، وہ جیسا ہے ویسا ہی باقی رہے۔ قرآن کے مطابق انسان کو ایک اصلاح یافتہ دنیا دی گئی ہے۔

انسان کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس اصلاحی حالت کو باقی رکھتے ہوئے اسے استعمال کرے۔ اگر انسان اس اصلاح میں خلل ڈالے اور وہ مسئلہ پیدا کرے جس کو ماحولیاتی مسئلہ کہا جاتا ہے، تو خدا کے نزدیک وہ ایک مجرم قرار پائے گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے چند دن کے لیے کسی شخص کو اپنے گھر میں مہمان رکھا۔ اب اگر وہ سمجھ لے کہ وہ اس گھر کا مالک ہے، اور اس احساس کے ساتھ وہ گھر کی چیزوں کو بے قید طور پر استعمال کرنے لگے، اور گھر کے اندر چیزوں کا جو نظم ہے اس کو بگاڑ ڈالے، تو وہ مہمان نہ رہے گا بلکہ مجرم بن جائے گا۔

اسی طرح موجودہ دنیا گویا خدا کا ایک عالمی گیسٹ ہاؤس ہے۔ انسان کو خدا نے اس گیسٹ ہاؤس میں محدود مدت تک رہنے کی اجازت دی ہے۔ انسان اگر اصل مالک کی مرضی کے مطابق یہاں رہے اور گیسٹ ہاؤس کے نظام میں خلل ڈالے بغیر اس کو استعمال کرے، تو یہ اس کا جائز حق ہوگا۔ لیکن اگر وہ خود اپنے آپ کو اس عالمی گیسٹ ہاؤس کا مالک سمجھنے لگے اور اس کے اندر قائم کیے ہوئے نظام کو درہم برہم کر دے، تو اس کی حیثیت ایک ایسے مجرم کی ہو جائے گی جس کو انعام دینے کے بجائے ذلت کی سزا دی جائے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو ماحولیاتی مسئلہ موجودہ زمانے میں پیدا ہوا ہے، اس کو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی یہ آیت بے حد اہم ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِ النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ الروم 41۔ یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔ اس آیت میں عین انہی ماحولیاتی مسائل سے پیشگی طور پر خبردار کیا گیا ہے جو آج انسان کو درپیش ہیں۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق جو ماحولیاتی مسائل آج پیش آ رہے ہیں، انسان کو چاہیے کہ وہ ان ماحولیاتی مسائل کو وارننگ کے طور پر لے، اور اپنی روش میں اصلاح کر کے دنیا کو دوبارہ اس اصلاحی حالت کی طرف لے جائے جو کہ صنعتی دور سے پہلے تھی۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 205۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.