سوال: مسلم مصنفین کی کتابوں کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری خدائی صرف مسلمانوں کے لیے ہے، خواہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ محروم طبقہ ہوں۔ مگر وہ برابر یہ کہتے رہتے ہیں کہ "ساری کائنات بس ہمارے لیے تخلیق کی گئی ہے"۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں "وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين" کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "نیز حق تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا ہے کہ پہلی امتوں کے برخلاف، اس امت کے کافروں کو عام و مستاصل عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا"۔ صفحہ 428۔
یہ کیا معاملہ ہے، اس کی وضاحت کریں، محمد سلیم دہلی۔ جواب: نمبر 1: یہ بات بے بنیاد ہے کہ مسلم قوم خدا کے نزدیک کوئی افضل قوم ہے۔ شعبہ مختار یعنی "چوزن پیپل" کا عقیدہ خالص یہودی عقیدہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو فیصلہ ہوگا وہ ہر فرد کے اپنے ایمان و عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی قوم یا نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر۔
نمبر 2: تفسیر عثمانی کا جو اقتباس آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب عذاب مستاصل نہیں آئے گا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا تعلق صرف بعد کے مسلمانوں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون الہی کا تعلق اس باب سے ہے کہ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں۔ عذاب مستاصل صرف کسی ایسی قوم پر آتا ہے جس کے درمیان کوئی پیغمبر آئے اور وہ ان پر اتمام حجت کر دے، اس کے باوجود قوم انکار کی روش پر قائم رہے۔
ایسی ہی کسی قوم پر عذاب مستاصل آتا ہے، جیسے کہ قوم نوح، قوم ثمود اور قوم فرعون پر آیا۔ اب ختم نبوت کے بعد چونکہ دنیا میں کوئی پیغمبر آنے والا نہیں، اس لیے اب کسی کے اوپر عذاب مستاصل بھی نہیں آئے گا۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 204۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.