سوال: آپ نے 1993 میں بابری مسجد کے مسئلے میں جو دو نکاتی فارمولا پیش کیا تھا، وہ بلاشبہ بہترین فارمولا تھا، مگر اس کے اعلان کے لیے آپ نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا۔ ایک صحیح فارمولا غلط وقت کی وجہ سے وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا جس کی ضرورت تھی۔ اق قاری الرسالہ، ناگپور۔ جواب: آپ کا یہ خیال درست نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس وقت میں نے اپنا یہ فارمولا پیش کیا، وہی اس کو پیش کرنے کا موزوں ترین وقت تھا۔ اس قسم کے نازک ایشو وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں، اس لیے اس قسم کے کئی مسئلے پر اس کے عملی حل کا فارمولا پیش کرنے کا سب سے زیادہ صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب مسئلے کا آغاز ہوا ہو۔ اس معاملے میں دیر کرنا گویا کہ کام کے اصل موقع کو کھو دینا ہے۔ اس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ بابری مسجد کے حادثہ 6 دسمبر 2002 پر 10 سال گزر چکے ہیں، اور ابھی بھی اس معاملے میں کوئی مسلمان حقیقت پسندانہ فارمولا سننے کے لیے تیار نہیں۔
اگر 1952 میں یہ فارمولا قبل از وقت تھا تو اب 2002 میں اس کو بروقت ہونا چاہیے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اب بھی کوئی لیڈر اس کو پیش کرنے کے لیے سامنے نہ آ سکا؟ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے اختلافی مسائل وقت گزرنے کے بعد ہمیشہ ساکھ کا مسئلہ، یعنی پریسٹیج ایشو، بن جاتے ہیں۔ اس لیے بہترین پالیسی یہ ہے کہ ساکھ کا مسئلہ بننے سے پہلے اس کو حل کیا جائے، کیونکہ ساکھ کا مسئلہ بننے کے بعد وہ حل ہونے والا ہی نہیں۔
کیونکہ ساکھ کا مسئلہ بننے کے بعد وہ حل ہونے والے ہی نہیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.