سوال: آج کے دور میں جبکہ وسائل، یعنی resources، کے نقطۂ نظر سے اہلِ یورپ و امریکہ مسلم ممالک سے کئی گنا زیادہ ترقی یافتہ ہیں، مسلمانوں کو یورپ و امریکہ کے خلاف قتال پر مبنی جہاد پر دھیان دینا چاہیے یا اپنی طاقت و قوت بڑھانے پر؟ زبیر احمد بھاگل پور۔ جواب: قتال اسلام میں ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ کوئی مطلق حکم؛ یعنی ایسا نہیں ہے کہ نماز روزے کی طرح قتال بھی ہر حال میں جاری رکھنا ہے۔ قتال صرف اس وقت کے لیے ہے جبکہ کسی خارجی طاقت کی جارحیت کی بنا پر دفاع کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہو۔
اس دفاع کی بھی لازمی شرطیں ہیں؛ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر دفاعی قتال بھی جائز نہیں۔ اس معاملے کی وضاحت اس سے پہلے الرسالے میں آ چکی ہے۔ جہاں تک اہلِ مغرب کا تعلق ہے، ان کے مقابلے میں ہمارا کام قتال نہیں ہے بلکہ دعوت ہے؛ عمومی طور پر سارے مسلمانوں کے لیے، اور خصوصی طور پر یورپ اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لیے، فرض کے درجے میں لازم ہے کہ وہ تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ ان قوموں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ یہ دعوتی کام پوری طرح پرامن انداز میں ہونا چاہیے۔
مؤثر دعوتی عمل کے لیے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وہ معتدل فضا قائم کریں جس کے اندر دعوت کا کام مطلوب انداز میں جاری ہو سکے۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.