سوال: میں نے اکثر مکان اور دکان میں یہ جملہ لکھا ہوا دیکھا ہے، براہِ کرم اس کے بارے میں بتائیں۔ وہ جملہ یہ ہے: "هذا من فضل ربي" یہ میرے خدا کا فضل ہے۔ یہ کوئی دعا ہے، حدیث ہے، قرآن کی کوئی آیت ہے، یا عربی مقولہ ہے؟ کیا اس طرح کی چیزیں گھروں اور دکانوں میں ٹانگنا چاہیے؟
مجھ کو تو ایسا لگتا ہے کہ ان سب چیزوں کو لٹکانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وضاحت کریں، شاہ عمران حسن مونگیر۔ جواب: مذکورہ قرآنی آیت جس طرح ادھوری شکل میں مکانوں اور دکانوں میں لکھی جاتی ہے، اس سے اس کا اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی طاقت عطا فرمائی تھی، اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: قال هذا من فضل ربي ليبلوني أشکر أم أكفر ومن شكر فإنما يشكر لنفسه ومن كفر فإن ربي غني كريم النمل 40 یعنی انہوں نے کہا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے جانچیں کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔
اور جو شخص شکر کرے تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے، اور جو شخص ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز ہے، کرم کرنے والا ہے۔ اپنی دکانوں یا مکانوں میں جو لوگ "هذا من فضل ربي" لکھ کر لگاتے ہیں، وہ اس طرح یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دکان اور مکان جو انہیں ملا ہے، وہ فضل اور انعام کے طور پر ملا ہے۔ حالانکہ پوری آیت کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کی مادی چیزیں اللہ کی طرف سے جس کو دی جاتی ہیں، وہ اس کو بطور امتحان دی جاتی ہیں، نہ کہ بطور انعام۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز امتحان کا پرچہ ہے۔
جہاں تک انعام الہی کا تعلق ہے، وہ کسی مقبول انسان کو آخرت میں ملے گا، موجودہ دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور یہاں کی ہر چیز کو امتحان کی مصلحت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ کتاب سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 179۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.