سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو جنگیں ہوئی ہیں، ان کو "جہاد" سے تعبیر کیوں کیا جاتا ہے جبکہ اس وقت مسلمانوں کی کوئی حکومت نہیں تھی؟ اور آپ کے کہنے کے مطابق جہاد کے لیے "established government" کی ضرورت ہے؟ إقرار الرسالة: كشمیر. جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے کے 13 سالہ دور میں ظلم کے باوجود جہاد نہیں کیا؛ آپ نے صرف مدنی دور میں جہاد کیا۔
اس فرق کا سبب یہ تھا کہ مکی دور میں اسلام کی حکومت قائم نہ تھی، البتہ ہجرت کے بعد مدینے میں باقاعدہ حکومت قائم ہو گئی، اس لیے آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد دفاع کے طور پر جہاد کیا۔ یہ بات خلافِ واقعہ ہے کہ مدنی دور میں وہاں اہلِ اسلام کی حکومت نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکے سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں کے باشندوں نے آپ کا استقبال "آمر" اور "مطاع" کہہ کر کیا، یعنی حاکم اور قابلِ اطاعت۔ چنانچہ آپ کے مدینہ پہنچتے ہی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آ گیا، اس کے سربراہِ اول خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
جواب دینے کے لیے جس طرح علم درکار ہے، اسی طرح سوال کرنے کے لیے بھی علم درکار ہے۔ سوال کرنے والے کو چاہیے کہ وہ سوال کرنے سے پہلے اس کے علمی تقاضے کو پورا کرے۔ سائل جب تک اپنے حصے کا علمی تقاضا پورا نہ کر لے، اس وقت تک اس کے لیے مطالعہ ہے نہ کہ سوال کرنا۔ کتاب: "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.