Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-176)

Urdu · 2 min

سوال: ایک مسلم جماعت کے ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں جو مجلس لگتی ہے، اس مجلس میں سبھی لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول کا ذکر ہوتا ہے، اس مجلس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر وہاں کوئی بدعتی مسلمان ہو تو کیا اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے؟

اس کا وہ جواب نہ دے سکے۔ برائے مہربانی آپ اس سوال کا جواب دیں: "اقرأ الرسالة"۔ جواب: حدیث صحیح مسلم کتاب الذکر میں مجالس الذکر کا بیان آیا ہے، اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے ایسی مجالس میں شرکت کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے بخش دیا جاتا ہے۔ مگر اس بشارت کا اطلاق اس مجلس پر ہے جو اللہ کی مطلوب مجلس ہو، نہ کہ کسی جماعت کے نظم کے تحت قائم کردہ مجلس۔

اسی طرح ذکر سے مراد وہ ذکر ہے جو اللہ کے علم میں ذکر ہو، نہ کہ وہ ذکر جو کسی جماعت کے اپنے وضع کردہ نظام کے تحت ذکر قرار دیا گیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر ایک اعلیٰ عبادت ہے، مگر ذکر سے مراد ورد نہیں ہے، اور نہ کسی کی تقریر کو ذکر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ ذکر دراصل ایک فرد مسلم کے دل میں امڈنے والے اس ربانی طوفان کا نام ہے جو اللہ کی یاد سے اس کے اندر پیدا ہوا ہو۔ ذکر سے مراد وہ اعلیٰ کیفیاتی عمل ہے جو آدمی کے دل کو تڑپا دے اور اس کی آنکھوں کو اشکبار کر دے۔

کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 176۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.