سوال: الرسالہ دسمبر 2001 کے صفحہ 27 پر آپ تحریر کرتے ہیں کہ "موجودہ دنیا کو خدا نے آزمائش یعنی ٹیسٹ کی مصلحت کے تحت بنایا ہے"۔ اگر اس جملے پر غور کریں تو ماننا ہوگا کہ خدا نہ عالم الغیب ہے نہ وہ کسی کے دل کی بات کو جانتا ہے، کیونکہ ٹیسٹ کا فائدہ یہی ہے کہ جو ہم نہیں جانتے تھے وہ جان جاتے ہیں۔ امتحان: کلکتہ۔ جواب: ٹیسٹ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خدا خود جانے، ٹیسٹ کا مقصد سلیکشن ہے۔
یہ ٹیسٹ خدا کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خود انسان کی نسبت سے ہے، یعنی انسانوں میں چھانٹ کر اچھے اور برے کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک چیز جو نظری حقیقت ہے اس کو معلوم اور مشہود واقعہ بنا دیا جائے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 175۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.