Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

Second question.

Urdu · 2 min

سوال: اسلام کے فکری غلبے کے بارے میں آپ کی بات سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تعارفِ اسلام کے سلسلے میں سائنٹیفک اندازِ تحریر، جو آپ کی تحریروں میں ملتا ہے، اسے حاصل کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ امید ہے کہ ان چیزوں کی تفصیل سے آپ مجھے مطلع فرمائیں گے۔ محمد نعمت اللہ، حیدرآباد۔

جواب: اس سلسلے میں قرآن سے دو رہنما اصول ملتے ہیں: ایک یہ کہ داعی کا کلام اپنی زبان کے اعتبار سے عصری اسلوب میں ہو۔ یہ اصول قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ سورہ ابراہیم، آیت 4۔ اس ضمن میں دوسرا اصول، جو قرآن سے معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ داعی کا کلام مخاطب کے اپنے معیار کے مطابق اتنا مدلل ہو کہ وہ اس کو سن کر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرنے لگے۔ یہ دوسرا اصول قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے: فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ البقرہ 258۔

میرے تجربے کے مطابق، اس قسم کے داعیانہ کلام کے لیے داعی میں حسبِ ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے: اسلامی علوم کے ساتھ مدعو کے علوم کا گہرا مطالعہ، ذہنی جمود سے خالی ہونا، متعصبانہ ذہن سے مکمل طور پر پاک ہونا، قومی فکر کے بجائے علمی فکر کا مالک ہونا، انسانیتِ عامہ کے ساتھ شفقت اور خیرخواہی کا تعلق ہونا، مصلحت بینی کے بجائے اعتراف کا مزاج ہونا، ہر دوسری طلب سے کٹ کر حق کا طالب بن جانا، وغیرہ۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 174۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.