Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

Second question.

Urdu · 3 min

سوال: میں کشمیر یونیورسٹی میں ایک ریسرچ اسکالر ہوں۔ میں نے اپنے ریسرچ کے متعلق آپ سے تحقیقی موضوع کا انتخاب کروایا تھا۔ آپ نے "اردو شاعری میں سائنسی مزاج" میرے موضوع کے لیے انتخاب کیا تھا، لیکن مجھے کسی بھی یونیورسٹی میں اس موضوع پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب میں نے اقبال اور سیکولرزم کے تحقیقی مقالے پر کام کرنا شروع کیا ہے، لیکن اقبال ہمیشہ تشقیق کے شکار رہے ہیں۔

اقبال کی شاعری اقبال کے تشقیقی مزاج کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ آپ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ ماجد جہانگیر کشمیر۔ جواب: ہماری یونیورسٹیوں کا جو نظام ہے، اس کے تحت کسی تخلیقی موضوع کے لیے ریسرچ کی اجازت ملنا بہت مشکل ہے۔

اس لیے اگر آپ کی یونیورسٹی میں مذکورہ موضوع منظور نہ ہو سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ جہاں تک اقبال اور سیکولرزم کے موضوع کا تعلق ہے، اس کے بارے میں میری رائے ہے کہ اقبال اور ان کے دوسرے ہم عصر، مثلاً سید ابو الاعلی مودودی اور سید قطب وغیرہ، نے موجودہ سیکولرزم کو سرے سے سمجھا ہی نہیں۔ اقبال سمیت یہ تمام لوگ ردعمل کی نفسیات کا شکار تھے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مغرب کی ہر چیز سے متنفر تھے۔

اس لیے "بغضک الشیء يعمي"، "بغضک الشيء يعمي ويسم" کے اصول کے مطابق، وہ سیکولرزم کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھ نہ سکے۔ اس بنا پر وہ اس کو سمجھنے سے عاجز رہے۔ جس طرح ہر فکری نظام میں کچھ انتہا پسند، یعنی ایکسٹریمسٹس، ہوتے ہیں، اسی طرح سیکولرزم کے حلقے میں بھی کچھ انتہا پسند قسم کے لوگ پیدا ہوئے۔ اس طرح کی انتہا پسندانہ تشریح کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلم علماء اور دانشوروں نے سیکولرزم کا ترجمہ "لا دینیت" کیا، مگر یہ ترجمہ صحیح نہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق عملی طور پر جو سیکولرزم دنیا میں رائج ہوا، وہ بلاشبہ ایک موافق دین نظریہ تھا، نہ کہ مخالف دین نظریہ۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سیکولرزم عملی طور پر اسی قسم کا ایک بندوبست ہے جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں صلح حدیبیہ کی صورت میں سامنے آیا۔ سیکولرزم کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ اسٹیٹ مشترک قسم کے نیشنل معاملات کو چھوڑ کر مذہب اور کلچر کے معاملے میں نا طرفداری، نان انٹرفیرنس کی پالیسی اختیار کرے۔ اس موضوع پر میں اپنی کتاب "دین کامل" میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں، وہاں آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.