سوال: کہا جاتا ہے کہ جو مسلمان اللہ کے راستے میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوگا اور اس کو جنت میں جگہ ملے گی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلم ماں بھی جنت میں جائے گی جس نے ایسے شہید کو جنم دیا؟ ترنم ریاض، نئی دہلی۔ جواب: آخرت کا انعام کسی کو نسلی تعلق کی بنا پر نہیں ملتا، وہ ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتا ہے۔
اگر کسی ماں نے اپنے بیٹے کی دینی تربیت کے لیے محنت کی، اور اس کی محنت سے اس کا بیٹا سچا دیندار بنا، تو اس قسم کے عمل کا ثواب ضرور ماں کو پہنچے گا، مگر محض نسلی تعلق کی بنا پر کسی مرد یا عورت کو کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ شہادت کے سلسلے میں عرض ہے کہ مسلمان کسی کو "شہید نہیں" کے لفظ سے پکاریں تو ایسا کرنے سے کوئی شہید نہیں بن جائے گا۔ شہادت کا تعلق تمام تر نیت سے ہے، اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ صرف اللہ یہ جانتا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں شہید کا درجہ پانے کا مستحق ہے۔
اسی لیے امام البخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الجہاد کے ایک باب کا عنوان "ترجمہ باب" ان الفاظ میں قائم کیا ہے: "باب لا یقال فلان شہید"۔ یہ نہ کہو کہ فلاں شہید ہے۔ فتح الباری، جلد 6، صفحہ 105۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 173۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.