← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
(Page-160)
Urdu · 5 min
سوال: خدا کے وجود کو ماننا بظاہر ایک معقول بات معلوم ہوتی ہے، لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر اس دنیا کا خدا ہے تو یہاں اتنی زیادہ مصیبتیں، یعنی sufferings، کیوں؟ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے انسان طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر خدا ہی خالق ہے اور وہ خیرِ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے، تو دنیا میں پائی جانے والی مصیبتوں کی توجیہ کیا ہوگی؟ پریا ملک، نئی دہلی۔
جواب: یہ سوال بہت پرانا ہے؛ فلاسفہ اس کو برائی یا خرابی کا مسئلہ، یعنی problem of evil، کہتے ہیں۔ جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے، ان کا خیال یہ ہے کہ ان کے نظریے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہی ہے۔ مگر یہ ایک مغالطہ ہے جو سطحی مطالعے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اس کی کوئی گہری بنیاد نہیں۔ اس سوال کو وسیع تر تناظر میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ہماری دنیا کے دو حصے ہیں: ایک انسانی دنیا، جو مجموعی دنیا کا بہت چھوٹا حصہ ہے؛ دوسرے وسیع خلا میں پھیلی ہوئی کائنات۔
یہ بقیہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسانی دنیا کمیت کے اعتبار سے اس کے مقابلے میں کوئی نسبت نہیں رکھتی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں دنیائیں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وسیع کائنات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آخری حد تک ایک معیاری کائنات ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کوئی خرابی یا نقص نہیں۔ مثال کے طور پر سورج کے گرد زمین کی گردش کو دیکھیے؛ یہ گردش بیک وقت دو انداز سے جاری ہے: ایک خود اپنے محور، یعنی axis، پر، اور دوسرے سورج کے گرد بیضوی شکل میں اپنے مدار، یعنی orbit، پر۔
زمین کی یہ دو طرفہ گردش اتنی زیادہ صحت کے ساتھ مسلسل ہو رہی ہے کہ کروڑوں سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ زمین گویا ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہے جو دو طرفہ اصول پر مسلسل گردش میں ہے۔ مگر ہم نہایت سکون کے ساتھ اس کے اوپر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ہوائی جہاز کی مانند اس میں شور اور جنبش ہونے لگے تو زمین کے اوپر ہمارا رہنا محال ہو جائے۔
کچھ انتہا پسند منکرینِ خدا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مادی دنیا نقص سے خالی نہیں۔ مثلاً ان کے نزدیک زمین کی کشش غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے چند کلو کے وزن کی چیز ہاتھ میں لے کر چلنا بھی سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ نقص کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ توازن کا مسئلہ ہے۔
زمین میں کشش اگر کم ہو جائے تو بے شمار ناقابلِ حل مسئلے پیدا ہو جائیں گے۔ مثلاً انسان کا زمین پر ہموار انداز میں چلنا ممکن نہ رہے گا، زمین پر مکانات کھڑے کرنا سخت دشوار ہو جائے گا، وغیرہ۔ مادی کائنات انسان کے مقابلے میں ناقابلِ قیاس حد تک بڑی ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی دنیا اتنی زیادہ چھوٹی ہے کہ بقیہ کائنات سے اس کو کوئی نسبت نہیں۔
اب جبکہ ایسا ہے کہ خرابی کا مسئلہ صرف انسان کی محدود دنیا کے ایک چھوٹے سے حصے میں ہے، اور وسیع کائنات خرابی سے مکمل طور پر پاک ہے، تو یہ ماننا ہوگا کہ خرابی کا مسئلہ عموم میں استثنا کا مسئلہ ہے۔ اور جب ایسا ہے تو استثنا کی توجیہ عموم کی روشنی میں کی جائے گی، نہ کہ عموم کی توجیہ استثنا کی روشنی میں کی جانے لگے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی میں خرابی کا مسئلہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر پیدا ہوا ہے، نہ کہ تخلیق میں کسی نقص کی بنا پر۔ اگر وہ تخلیق میں نقص کی بنا پر ہوتا تو اس کی مثالیں وسیع کائنات میں ہر طرف موجود ہوتیں، نہ کہ وسیع کائنات کے صرف ایک بے حد چھوٹے حصے میں۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق وسیع کائنات کو جبری نظام، یعنی determinism، کے تحت براہِ راست اپنے کنٹرول میں رکھا ہے۔ اس لیے وہ کسی تبدیلی کے بغیر ایک مقرر حالت پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس انسان کو امتحان کی مصلحت کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اسی فرق نے مذکورہ بالا مسئلہ پیدا کیا ہے۔
انسان اپنی آزادی کا بار بار غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی غلط استعمال نے وہ مسائل پیدا کیے ہیں جن کو خرابی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ انسان اگر اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے تو انسانی دنیا بھی اسی طرح بے نقص دنیا بن جائے گی جس طرح بقیہ کائنات بے نقص دنیا بنی ہوئی ہے۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔