Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-159)

Urdu · 2 min

سوال: اسلام کے مطابق جنت اس کو ملے گی جو خدا کی شریعت پر عمل کرتا ہو، مگر یہ نظریہ ایک محدود نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو خدا کی شریعت کی بات نہیں کرتے، مگر وہ ایک بااخلاق زندگی گزارتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے، وہ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں، وغیرہ۔ اس قسم کے بہت سے اچھے لوگ ہیں، آخر وہ خدا کی جنت سے محروم کیوں رہیں گے؟

یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ رجت منہوترا، نئی دہلی۔ جواب: یہ صحیح ہے کہ غیر خدا ترس لوگوں میں بھی بظاہر کچھ اخلاقی خوبیاں نظر آتی ہیں، لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ صحیح معنوں میں اخلاق نہیں ہوتا۔ زیادہ درست طور پر اس کو سماجی برتاؤ، یعنی سوشل مینرز کہا جا سکتا ہے۔

کوئی آدمی اس قسم کی اخلاقی روش اس لیے اختیار کرتا ہے تاکہ سماج میں اس کو اچھا سمجھا جائے۔ یہ خود پرستی کی ایک صورت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتاً خدا پرستی کی صورت۔ اس سماجی اخلاق کی اصلیت اس وقت کھل جاتی ہے جب کہ کوئی حقیقی جانچ کا موقع آ جائے۔ جب آدمی کو اپنا کوئی بڑا مفاد خطرے میں جاتا ہوا نظر آئے۔

جب کسی اخلاقی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس کو اپنی انا کو قربان کر دینا پڑے۔ اس قسم کا اخلاق ذاتی انٹرسٹ کے تابع ہوتا ہے، وہ مستقل اصول کے تابع نہیں ہوتا۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ اچھے لوگ بھی اس وقت بدل گئے جب کہ انہیں کسی کڑی اخلاقی جانچ سے گزرنا پڑا۔ ایسے موقع پر یہ بظاہر بااخلاق لوگ اچانک بے اخلاق بن جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا سے ڈرنے والا انسان ہی ہر حال میں اخلاقی اصول پر قائم رہ سکتا ہے۔ خدا کے سامنے حساب دینے کا اندیشہ خود انٹرسٹ کے تصور کو بدل دیتا ہے۔ اب انسان کا انٹرسٹ یہ بن جاتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے اچھا انسان ٹھہرے، نہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں وہ لوگوں کو ایک اچھا انسان دکھائی دے۔ کتاب سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 159۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.