Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-158)

Urdu · 3 min

سوال: میں نے آپ کی کچھ تحریریں پڑھی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے ہیں۔ صلح حدیبیہ تو قدیم زمانے میں ایک خاص وقت کے لحاظ سے تھی؛ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے اس کی مناسبت، یعنی relevance، کیا ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں، خالد انصاری، نئی دہلی۔

جواب: صلح حدیبیہ کوئی منفرد تاریخی واقعہ نہیں، وہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر زمانے سے ہے، وہ فرد کی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہے اور قوم کی زندگی کے لیے بھی۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اکثر دو فریقوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ یہ نزاع بظاہر کسی حق یا کسی انصاف کے لیے ہوتی ہے، مگر زندگی کا قانون یہ ہے کہ آپ اپنا حق فریق ثانی سے نہیں لے سکتے۔

آپ کا مطلوب حق خود آپ کے تعمیری عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ فریق ثانی سے ملا ہوا عطیہ۔ حدیبیہ پرنسپل یہ بتاتا ہے کہ جب کسی سے نزاع قائم ہو جائے تو نزاع کو حق یا انصاف کا سوال نہ بناؤ، بلکہ اس کو امن کا سوال بناؤ۔ یعنی ہر قیمت پر جلد سے جلد نزاع کو ختم کر دو۔ نزاع کو ختم کرنے کا مطلب حالات کو نارمل بنانا ہے۔

نزاع کے وقت یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ساری طاقت فریق ثانی سے لڑنے میں ضائع ہونے لگتی ہے۔ عین اسی وقت آپ کے لیے مواقع کار موجود ہوتے ہیں، مگر آپ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتے۔ جبکہ کامیابی ہمیشہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتی ہے، نہ کہ حقوق کی لڑائی لڑنے سے۔ حدیبیہ پرنسپل ایک ابدی پرنسپل ہے۔

یہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹکراؤ کو avoid کر کے نارمل حالات پیدا کرو، تاکہ تمہیں موجودہ امکانات کو استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ نزاع کو غیر مشروط طور پر ختم کرنا بظاہر نقصان کا ایک معاملہ دکھائی دیتا ہے، مگر نقصان کوئی مطلق چیز نہیں؛ نقصان ایک تقابلی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کو باقی رکھنے میں بھی نقصان ہے، اور نزاع کو ختم کرنے میں بھی نقصان۔

آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ دونوں قسم کے نقصان کے درمیان موازنہ کریں۔ اگر آپ اس طرح موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نزاع کو باقی رکھنے میں زیادہ نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں کم نقصان۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا گویا زیادہ نقصان کے مقابلے میں کم نقصان کو اختیار کرنا ہے۔ اور بلاشبہ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ نقصان والی صورت کو چھوڑ دیا جائے اور کم نقصان والی صورت کو اختیار کر لیا جائے۔

مزید یہ کہ حدیبیہ اصول پر نزاع کو ختم کرنے والے لوگ اگر دانشمند ہوں تو یہ تدبیر ان کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑے فائدے کا باعث بن سکتی ہے، اور وہ ہے وقتی نقصان کو گوارا کر کے مستقبل کے عظیم تر فائدے کو محفوظ کر لینا۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 158۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.