سوال: کہا جاتا ہے کہ بدعات کی دو قسمیں ہیں، بدعاتِ حسنہ اور بدعاتِ سیئہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعات کی یہ تقسیم درست ہے؟ اور اگر درست ہے تو ان دونوں قسموں کے درمیان کیا فرق ہے؟ تفصیل سے مستفید فرمائیں۔
ندیم احمد ثنابلی، دہلی۔ جواب: عام طور پر بدعت کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ «كُلُّ مَا أَحْدَثَ فِي الدِّينِ فَهُوَ بِدْعَةٌ» یعنی نئی ہر چیز جو دین میں نکالی جائے وہ بدعات ہے۔ مگر یہ تعریف پوری طرح واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بدعات، یعنی انوویشن، زندگی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔
زندگی میں بار بار نیا پن لانا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا مسلسل سفر ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم نئی چیز کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ کہ خود دین، خود دینِ خدا میں کوئی نئی چیز نکالنا جس کا ثبوت قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ مثلاً ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کرنا۔
یہ طریقہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں، اس لیے اس کو غیر مطلوب قرار دیا جائے گا۔ بدعات یا نئی چیز کی دوسری صورت وہ ہے جو زمانے کی ضرورت یا حالات کی تبدیلی کی بنا پر اختیار کیا جائے۔ مثلاً قرآن میں اعدادِ قوت الانفال 60 کا حکم آیا ہے۔ اس کی تشریح حدیث میں رمی سے کی گئی ہے، یعنی تیر مارنا، مگر موجودہ زمانے میں تمام مسلم ملکوں میں اعدادِ قوت کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے معنی میں لیا جاتا ہے، نہ کہ تیر کمان کی فراہمی کے معنی میں۔
یہ بظاہر ایک نئی چیز ہے، مگر وہ مطلوب بدعات ہے، نہ کہ غیر مطلوب بدعات۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں عبادتی بدعات اور معاملاتی بدعات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.