سوال: ہم نے بار بار پڑھا اور سنا ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے۔ اب عملی زندگی میں دیکھا جائے کہ ہم رشوت نہ لیں، یہ تو ہمارے بس کی بات ہے، مگر رشوت نہ دیں تو ہمارا جینا مشکل ہو جائے گا۔ ہمارے گھروں میں بجلی اور پانی نہیں آئے گا۔ اب اگر رشوت دیتے ہیں تو خدا کے ڈر سے دل کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔
آپ اس سوال کا جواب تفصیل سے دیں تاکہ میرے علاوہ بہت سے لوگوں کو جانکاری ملے۔ ایسے سماج میں آخر آدمی کیسے جیے گا؟ بشیر احمد کالو، کشمیر۔ جواب: آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے، وہ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔
مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي مسند احمد جلد 2 صفحہ 164۔ یعنی رسول الله صلى الله عليه وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: الراشي والمرتشي كلاهما في النار رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں آگ میں جائیں گے۔ رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے کا حکم اس وقت یکساں ہے جبکہ رشوت دینے والا ایک ایسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے رشوت دے جو شرعی اعتبار سے اس کا حق نہیں۔
اسی طرح رشوت لینے والا جو اپنی خدمت کے لیے حکومت سے تنخواہ پانے کے باوجود مزید رشوت کا طالب ہو، وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہے۔ لیکن اگر کہیں ایسا ہو کہ وقت کا نظام اس طرح بگڑ جائے کہ آدمی اپنا جائز حق بھی رشوت دیے بغیر نہ پا سکے، تو ایسی حالت میں اضطرار کا اصول منطبق ہوگا اور اپنا واقعی حق لینے کے لیے اس کا دینا جائز قرار پائے گا۔ کتاب سوال و جواب جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 156۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.